(اُردو ایکسپریس) آبنائے ہرمز اور خلیجِ عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات امریکی حملے کے جواب میں اس کی بحری اور میزائل فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے امریکی یونٹس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ کے مطابق جمعے کی شب ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز اور جنوبی ایرانی ساحلی علاقوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کا فوری جواب دیا۔ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق قشم جزیرے، بندر خمیر اور سیرک کے ساحلی علاقوں میں شہری مقامات پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔
ایرانی فوج کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے دو جہازوں کو نشانہ بنایا اور ایرانی سرزمین پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے امریکی بحری جہازوں پر کارروائی کی۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔
ایرانی فوج نے کہا کہ امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرق اور بندرگاہ چاہ بہار کے جنوب میں موجود امریکی فوجی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود امریکی یونٹس کو بھاری نقصان پہنچا، دشمن ان میزائل حملوں سے ہڑبڑا گیا اور انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے ان میزائیل حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے، جس میں میزائیلوں پر مختلف شہداء کے نام اور تصاویر چسپاں نظر آرہی ہیں۔ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق جھڑپوں کے دوران جزیرہ قشم میں واقع بہمن پیئر بھی حملے کی زد میں آیا۔ تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے مزید نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک جلد اپنے دشمنوں کے خلاف ’عظیم فتح‘ کا جشن منائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے جاری دباؤ کا دور اختتام کے قریب ہے اور ایران پر عائد پابندیاں بھی جلد ختم ہو سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں جھڑپیں شروع ہوتے ہی تہران میں حفاظتی اقدامات کے تحت فضائی دفاع کے نظام کو بھی متحرک کر دیا گیا، تہران شہر میں عوام جوش و خروش کے ساتھ ایرانی پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آئے اور امریکا مخالف نعرے بازی کرنے لگے۔