پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہا 28 ویں آئینی ترمیم کر کے صوبوں کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعہ ملنے والے اختیارات واپس لے لئے جائیں گے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا دھڑن تختہ ہونے لگا ہے، نئی آئینی ترمیم صوبائی خود مختاری پر حملہ ہو گی۔ بابر اعوان نے یہ باتیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ بابر اعوان نے کہا، این ایف سی ایوارڈ کے پرانے فارمولے میں تبدیلی کر کے صوبوں کو کمزور کیا جائے گا۔ اٹھائیسویں آئینی ترمیم باوردی ہے جس کے ذریعے صدارتی نظام حکومت بنانے کی گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بابر اعوان نے کہا کہ جو جماعت شریک اقتدار ہے ، حکومت کی تنخواہ دار ہے، اس سے تو ہماری قربت نہیں ہو سکتی۔ یہ اقتدار سے جس دن استعفیٰ دیں گے، اپوزیشن میں بیٹھیں گے میں خود سفارش کروں گا کہ ان کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ورنہ یہ اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے، نہ احتجاج کرین گے، نہ کبھی اقتدار کے حوالے سے ایوان سے واک آؤٹ کریں گے۔اٹھائیسویں ترمیم کے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے بابر اعوان نے کہا، اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر میرے تین کومنٹ ہیں۔ پہلا کومنٹ ہے کہ اٹھائیسوین آئینی ترمیم "باوردی” ہے۔ میرا دوسرا کومنت یہ ہے کہ اٹھائیوسوین آئینی ترمیم کے ذریعہ صدارتی نطام لانے کی بات کی جا رہی ہے۔ تیسرا میرا کومنٹ یہ ہے کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعہ صوبوں کے وہ اختیارات جو ساڑھے تین عشروں کے بعد اٹھاریوں آئینی ترمیم کے ذریعہ دیئے گئے تھے وہ مرکز میں واپس آ جائیں گے۔ تعلیم، صحت اور لا اینڈ آرڈر کے لئے جو پیسے صوبوں کو جاتے تھے وہ اب واپس مرکز میں لائے جائیں گے۔ این ایف سی ایوارڈ کی تبدیلی کی سب سے بڑی خبر ہے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے۔بابر اعوان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کو ری سٹرکچر نہیں کر رہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ پچھلے فارمولے کو تبدیل کر دیں گے۔ صوبوں کو اور کمزور کیا جائے گا۔ جو کے پی کی گورمنٹ کہہ رہی ہے کہ صوبے کو بقایا اختراجات ادا کئے جائیں، وہ مطالبہ آئینی ترمیم کے ذریعہ ختم کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں بابر اعوان کے کہا، بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقاتوں کی اجازت تھی تو میں باقاعدگی سے وہاں جاتا تھا، اب اصل ایشو اور ہے، جس ملک میں کلبھوشن جادھو کے گھر والوں کو اس سے ملنے کی اجازت ہے، بانی پی ٹی آئی کے گھر والوں کو کیوں نہیں۔ کلبھوشن جادھو کو قونصلر کے ذریعے وکیل تک رسائی دی گئی۔ مجھ سمیت باقی وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔ علیمہ خان نے کہا تو میں کل بھی اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے میں موجود تھا۔ بابر اعوان نے کہا، ملک میں دو وزیراعظم ہیں، ایک معلوم اور ایک اس کے پیچھے نامعلوم۔ پی ٹی آئی کے سابق وزیر قانون نے کہا، حبیب جالب نے کہا تھا، "منصف بھی تو قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے”, آج انصاف بھی قید میں آ گیا ہے.