(اُردو ایکسپریس) دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) جہاں کاروباری ترقی اور کارکردگی میں انقلاب لا رہی ہے وہیں اب یہ ٹیکنالوجی ایک نئے معاشی چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیوں میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اے آئی کے استعمال پر آنے والے اخراجات بعض اوقات ملازمین کی مجموعی تنخواہوں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔ اخراجات بڑھنے سے کارپوریٹ دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اوبر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر نے 2026 کا اپنا پورا اے آئی بجٹ سال کے آغاز سے قبل ہی ختم کر دیا۔یہ اخراجات ہارڈویئر یا انسانی وسائل پر نہیں بلکہ ’ٹوکن کاسٹس‘ یعنی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی لاگت پر ہوئے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی اب محض ایک ٹول نہیں بلکہ ایک بھاری سرمایہ کاری کا تقاضا کرنے والا نظام بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اصل بحث صرف اے آئی کے استعمال کی نہیں رہی بلکہ اس کی لاگت اور اس سے حاصل ہونے والی حقیقی کاروباری قدر کے درمیان توازن کی ہے جو آنے والے برسوں میں کارپوریٹ دنیا کو براہِ راست متاثر کرے گا۔