(اُردو ایکسپریس) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایک خطرناک فراڈ تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں جعلساز مفت سم کارڈ یا جعلی مالی امدادی اسکیموں کا جھانسہ دے کر شہریوں کے انگوٹھوں کے نشانات، فنگر پرنٹس اور دیگر بائیو میٹرک ڈیٹا چرا رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ دھوکے باز خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں مفت سم یا امدادی پیکیج دینے کے بہانے ان کا حساس ڈیٹا حاصل کر لیا جاتا ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ اس فراڈ کے ذریعے حاصل کی جانے والی سم کارڈز اکثر مالی دھوکہ دہی، شناخت کی چوری، اور دیگر جرائم میں استعمال کی جاتی ہیں۔ پی ٹی اے نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کسی غیر مصدقہ شخص یا ادارے کے ساتھ اپنی بائیو میٹرک معلومات یا شناختی ڈیٹا ہرگز شیئر نہ کریں کیونکہ کسی دوسرے شخص کو اپنے نام پر جاری سم کارڈ دینا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
مزید بتایا گیا کہ پی ٹی اے نے اس فراڈ کے خاتمے اور شہریوں کی آگاہی کے لیے میٹا اور تعلیمی پلیٹ فارم کے اشتراک سے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد پاکستانی شہریوں کو آن لائن فراڈ، جعلی اشتہارات اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے عام حربوں سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ مہم میٹا کے ایشیا پیسیفک پروگرام کا حصہ ہے جو 15 سے زائد ممالک میں ڈیجیٹل سیکورٹی اور آن لائن آگاہی کو فروغ دے رہا ہے۔پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے اس اشتراک کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شعور بڑھانا آن لائن فراڈ سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
ان کے مطابق پی ٹی اے ملک میں ایک محفوظ اور باشعور ڈیجیٹل ماحول قائم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ میٹا پاکستان کی ہیڈ آف پبلک پالیسی دانیا مختار نے کہا کہ کمپنی مسلسل جعلی اکاؤنٹس اور آن لائن فراڈرز کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، تاہم یہ عناصر وقتاً فوقتاً نئے حربے اختیار کرتے ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر سرگرم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام میں آگاہی اور تعلیم ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ان خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ دانیا مختار نے پی ٹی اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک دونوں اداروں کے اس مشترکہ مقصد کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت صارفین کو آن لائن دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے ضروری معلومات اور اوزار فراہم کیے جا رہے ہیں۔