(اردو ایکسپریس) حکومت آمدنی میں اضافے اور آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے پیٹرول پر ٹیکس مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں پہلے ہی سالانہ ہدف 1,468 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں اس لیوی کو مزید بڑھانے پر غور جاری ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی حکومت نے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں تقریباً 27 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جس کے بعد یہ 107 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف سے منسلک مالیاتی پالیسی کا حصہ ہیں ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان پر سبسڈیز ختم کرنے اور براہِ راست ٹیکسوں، خصوصاً پیٹرولیم لیوی پر انحصار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔ حکومت نے مبینہ طور پر آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ سخت مالی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں عدم استحکام کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم مقامی سطح پر قیمتوں میں زیادہ اضافہ ٹیکسوں کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ عالمی قیمتوں کی بنیاد پر۔