(اردو ایکسپریس) امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں دی گئی چھوٹ اچانک ختم کیے جانے کے بعد تہران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ امریکی جریدے ‘بلومبرگ’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ویسل ٹریکنگ ڈیٹا (بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے نظام) سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کے لاکھوں بیرل خام تیل سے لدے ہوئے دیو ہیکل ٹینکرز اس وقت خلیجِ فارس سے لے کر آبنائے ملاکا تک سمندری پانیوں میں یا تو انتہائی سست رفتاری سے رواں دواں ہیں یا پھر مکمل طور پر رک چکے ہیں۔
بلومبرگ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی فوجی و سفارتی کشیدگی کے باعث اگر امریکی بحری ناکا بندی دوبارہ مکمل طور پر سرگرم ہوتی ہے، تو ایران کا مزید تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل اور پیٹرولیم کی ریفائنڈ مصنوعات سمندری راستوں میں پھنس کر رہ جائیں گی، جس سے ایرانی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ نے آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی متبادل راستے میں کمرشل بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور ان پر حملوں کا سارا ملبہ ایران پر ڈالتے ہوئے اسے موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ اس واقعے کے فوری بعد واشنگٹن نے ایرانی تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت پر دوبارہ سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا