(اُردو ایکسپریس) *آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات اس بار غیرمعمولی سیاسی حالات میں منعقد ہو رہے ہیں۔ ایک جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاج، 12 مہاجر نشستوں پر تنازع اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے نے انتخابی ماحول کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد کشمیر کی 45 نشستوں پر 27 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پولنگ ہوگی۔ اس بار 38 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جو 2021 کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ زیادہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک علاقائی انتخاب نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کرنے والا اہم مرحلہ ہے۔
کون سی جماعتیں میدان میں ہیں؟
پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اس انتخاب میں بھرپور مہم چلا رہی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے موجودہ حالات کو جواز بناتے ہوئے انتخابی عمل سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت کی حمایت اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی انتخابی مہم کا محور بنا رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے پُرامید ہے۔
دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ علیم خان نے آزاد کشمیر میں اپنی جماعت کو ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ پارٹی نے کئی حلقوں میں امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس بھی اس کی اہم انتخابی شخصیت ہیں۔
پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کا کیا اثر ہوگا؟
2021 کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی پی ٹی آئی اس بار انتخابی میدان سے باہر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے اس کے ووٹ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی یا آئی پی پی کو پہنچ سکتا ہے۔
احتجاج اور مہاجر نشستوں کا تنازع
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ماہ سے مہنگی بجلی، بہتر طرزِ حکمرانی اور دیگر مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔ تنظیم 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت اور کئی سیاسی جماعتیں ان نشستوں کو آئینی اور تاریخی ضرورت قرار دے رہی ہیں۔ یہی معاملہ اس انتخاب کا ایک بڑا سیاسی موضوع بن چکا ہے۔
انتخابی منظرنامہ کیا کہتا ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق تین امکانات نمایاں ہیں۔ پہلا یہ کہ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئے، دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے، جبکہ تیسرا امکان ایک معلق اسمبلی کا ہے جہاں چھوٹی جماعتیں اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں۔
آزاد کشمیر کے یہ انتخابات نہ صرف وہاں کی آئندہ حکومت کا فیصلہ کریں گے بلکہ پاکستان کے کشمیر مؤقف، جمہوری عمل اور خطے کے سیاسی مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اس لیے 27 جولائی کا دن صرف آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔