(اردو ایکسپریس) ایران نے ان تمام امریکی دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران اپنا افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے واضح کیا ہے کہ تہران افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اس حوالے سے اب تک کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے یا اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے سے متعلق ہر بات کو ایران مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ ملک کی اسٹریٹجک ریڈ لائن ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کر دے گا۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ”امریکہ تمام ایٹمی مواد (ڈسٹ) حاصل کر لے گا۔“
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کو بتایا کہ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی مٹی کی طرح مقدس ہے اور اسے کسی بھی صورت میں کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا۔
تہران میں سینٹر فار مڈل ایسٹ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ماہر عباس اصلانی کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کی مستقل معطلی قبول نہیں کرے گا بلکہ اسے افزودگی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اسے ملک کے اندر ہی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکے۔
ایٹمی معاملے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تہران کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔
ابراہیم رضائی نے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر روایتی طریقے سے کوئی فیس عائد نہیں کرے گا، بلکہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسا قانون تیار کر رہی ہے جس کے تحت ’آبنائے کی حفاظت‘ سے متعلق فیس لی جائے گی