تازہ ترین دنیا

ہرمز میں ایرانی حملے، کروڈ آئل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی

Share:
Spread the love

(اردو  ایکسپریس) ایران نے آبنائے ہرمز میں جنگ سے لاتعلق ممالک کے جہازوں پر حملوں میں اضافہ کے بعد خام تیل کی ترسیل میں رکاوٹ بڑھ گئی ہے اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی۔ برینٹ کروڈ، بدھ کے آخر میں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا، جو کہ بدھ کے دن کے لیے برینٹ کی قیمت میں 8.7 فیصد اضافہ ہے۔ دریں اثنا، ڈبلیو ٹی آئی، امریکی بینچ مارک بھی 8.7 فیصد بڑھ کر 94.8 ڈالر تک پہنچ گیا۔ امریکہ کے ایسٹرن ٹائم کے مطابق صبح 2 بجے تک یہ 98.7 ڈالر فی بیرل کے نشان کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا۔ ایران جنگ شروع ہوتے ہی کروڈ آئل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے بڑھنا شروع ہو گئی تھی اور پیر کے روز کروڈ آئل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔ پھر اسی روز ٹرمپ کے اس اعلان سے واپس 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد بند کر دے گا۔ ٹرمپ کے جنگ جلد بند کرنے کے امیدافزا اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی اجازت نہین دین گے۔ اس کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے آدھا لٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے۔ اس اعلان کے بعد پاسداران نے تھائی لینڈ، جاپان اور یونان کے کم از کم تین جہازوں پر حملے کئے جن پر تیل لدا ہوا تھا۔ پاسداران نے ان حملوں کی پہلی مرتبہ اعلانیہ ذمہ داری بھی لی۔کل ہی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک کے ساتھ طے کر کے اعلان کیا کہ رکن ممالک اپنے اپنے سٹریٹیجک ریزروز میں سے 40 کروڑ بیرل کروڈ آئل استعمال کے لئے نکالیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ توقع کی جا رہی تھی کہ اس سے مارکیٹ میں کروڈ آئل کی قیمتوں میں قدرے کمی آئے گی اور استحکام آئے گا لیکن اس کے برعکس ہوا۔ مارکیٹ نے چالیس کروڑ بیرل تیل کے ذخائر استعمال میں لانے کے اعلان کا کوئی اثر نہیں لیا اور آبنائے ہرمز کی سنگین صورتحال نے قیمتیں ایک بار پھر بڑھاتے بڑھاتے کروڈ آئل کو 100 ڈالر فی بیرل کا لینڈ مارک عبور کروا دیا۔ کروڈ آئل کی قیمتوں میں نئے سرے سے ابھار کا سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مشرق وسطی کا تنازعہ متعدد محاذوں پر بڑھ رہا ہے، اور ایران عالمی توانائی کی سپلائیوں اور اس کے پڑوسیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے