(اردو ایکسپریس) ایران میں نئی اعلیٰ قیادت کا اعلان کرتے ہوئے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے ووٹنگ کے ذریعے ان کے نام کی منظوری دی، جس میں انہیں بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہوں گے۔ وہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔ مجلس خبرگان کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملک میں قیادت کے خلا سے بچنے کے لیے فوری طور پر نئے رہبر کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے اجلاس میں قومی اتحاد اور استحکام پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں شریک ارکان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نئے سپریم لیڈر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔
مجلس خبرگان کے عہدیداروں نے بتایا کہ حالیہ کشیدہ حالات اور دشمن کے حملوں کے باوجود سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں ہونے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخاب کے لیے تمام آئینی اور شرعی تقاضے پورے کیے گئے۔
ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے بھی اس موقع پر کہا کہ مجلس خبرگان نے خطرات اور حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مکمل کیا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں نئی قیادت ملک کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرے گی اور عوام کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہیں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھنے والی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ماضی میں جانشینی کے معاملے پر کھل کر کوئی بیان نہیں دیا تھا۔