(اردو ایکسپریس) ملک میں شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا،اگلے دو ماہ کے لئے شرح سود 10.50فیصد سے بڑھ کر 11.50 فیصد کردیا گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ ملک میں مہنگائی کا دباؤ اور عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ۔ اعداد و شمار کے مطابق 23 اپریل تک ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بھی مہنگائی کی توقعات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی معیشت “غیر معمولی اور غیر یقینی خطرات” کا سامنا کر رہی ہے، جن میں صنعتی پیداوار میں کمی اور غربت میں اضافے جیسے خدشات شامل ہیں۔ بینکرز اور ماہرین کی رائے میں شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی تھا، تاہم اس کی مقدار پر اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ ماہرین کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ محتاط قدم ہوتا، جبکہ دیگر کے مطابق 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ مہنگائی پر قابو پانے اور مالی استحکام کے لیے ضروری تھا۔ ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیاں اس وقت غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، جہاں تیل، کرنسی، شیئرز اور بانڈز کی قیمتیں ایک ساتھ مختلف سمتوں میں حرکت کر رہی ہیں، جس سے پالیسی سازی مزید مشکل ہو گئی ہے۔