بلاگز تازہ ترین

کون لوگ ہیں آپ؟ پی آئی اے، ہم اور ہماری ہمیشہ کی ناراضگی . تحریر: عمران ملک

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس)

تحریر: عمران ملک

پی آئی اے پاکستان کی قومی ایئرلائن ہے، یا تھی، یا شاید اب دوبارہ بننے کی کوشش میں ہے۔ برسوں سے ہم سنتے آئے ہیں کہ پی آئی اے حکومتی ناقص پالیسیوں، سیاسی مداخلت اور اپنوں کو نوازنے کی روایت کے باعث سالانہ اربوں روپے کے خسارے میں جا رہی تھی۔ جو بھی پاکستانی اس میں سفر کرتا، شکایات کی فہرست تیار ہوتی، سیٹیں غیر آرام دہ، پروازیں تاخیر کا شکار، اور بین الاقوامی روٹس پر بھی تفریحی سہولتیں ناپید۔

روزانہ کی تنقید کے بعد اب جب نجکاری کا مرحلہ آیا اور ایک بزنس گروپ نے پی آئی اے کو سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا تو شور ایک نئے لیول پر پہنچ گیا۔

حقائق ذرا دیکھیے۔

پی آئی اے کو مجموعی طور پر تقریباً 135 ارب روپے میں خریدا گیا ہے، مگر اس میں سے حکومت کو صرف 10 ارب روپے ملیں گے۔ باقی رقم ایئرلائن کی بہتری، قرضوں کی ایڈجسٹمنٹ اور مستقبل کی گروتھ پر لگائی جائے گی۔ یعنی خریدار نے پیسے اپنی جیب میں نہیں ڈالے بلکہ کمپنی کو سیدھا کھڑا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

یہ بھی کوئی خفیہ سودا نہیں تھا۔ بڈنگ کھلے عام ہوئی، مختلف گروپس شریک ہوئے، اور عارف حبیب گروپ نے سب سے زیادہ بولی دی۔ لیکن اب اعتراض یہ ہے کہ حکومت کو پیسے کم کیوں ملے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر پی آئی اے واقعی سنبھل جائے، تو کیا یہ قوم کے فائدے میں نہیں؟

البتہ یہاں ایک اور دلچسپ موڑ بھی ہے۔حکومت نے جس انداز میں اس بڈ کو تشہیر دی، اور جس سطح کا بجٹ عطا اللہ تارڑ کی وزارت نے اس مہم پر لگایا، اس نے خود اس عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر سب کچھ شفاف تھا تو اتنی بھرپور تشہیر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اب ہر کسی کا اپنا بیانیہ ہےکوئی کہتا ہے پی آئی اے سستی بیچ دی گئی، کوئی کہتا ہے حکومت نے نقصان کیا، اور کوئی بس تنقید اس لیے کر رہا ہے کہ کیمرہ آن ہے۔ہم بحیثیت قوم شاید کبھی خوش ہو ہی نہیں سکتے۔ پہلے کہتے تھے پی آئی اے تباہ ہے، اب کوئی اسے سنبھالنے آیا تو اس پر بھی اعتراض۔پاکستانی ٹاک شوز اب سنجیدہ مکالمہ نہیں رہے، بلکہ ایک تماشہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے باشعور ناظرین نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور ڈرامے دیکھ رہے ہیں، کم از کم وہاں کہانی میں تسلسل تو ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ دھول بیٹھ جائے گی۔ فی الحال عارف حبیب گروپ پُرعزم نظر آتا ہے کہ پی آئی اے کو واقعی ایک بین الاقوامی معیار کی ایئرلائن بنایا جائے۔باقی آگے کیا ہوتا ہے، یہ تو وقت بتائے گا۔اور تب تک، ہم سوال کرتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے