(اردو ایکسپریس) تحریر : عمران ملک
اتوار کا دن تھا، چینل بدلتے بدلتے لاہور نیوز پر نظر ٹھہر گئی۔ ایک خاتون اینکر ریس کورس، یعنی جلانی پارک میں کھڑی تھیں اور بچوں سے جنرل نالج کے سوال پوچھ رہی تھیں۔ میں مسکرایا، سوچا چلو اچھا ہے، بچوں کی ذہانت دیکھنے کو ملے گی۔لیکن چند منٹ بعد مسکراہٹ غائب ہو گئی۔سوال بہت مشکل نہیں تھا،
"ٹیلی فون کس نے ایجاد کیا؟”
خاموشی۔دوسرا سوال آیا،”پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ کون سا ہے؟”پھر خاموشی، نظریں زمین پر، کچھ اندازے، کچھ شرمندہ ہنسی۔کسی ایک بچے نے بھی درست جواب نہ دیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ایک بزرگ ٹیچر، جن کی عمر ساٹھ کے قریب تھی، وہ بھی جواب نہ دے سکیں۔ کچھ بچوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پاکستان میں صوبے کتنے ہیں۔اور چند ایسے بھی تھے جنہیں دو کا پہاڑا تک یاد نہیں تھا۔ابھی دل سنبھلا ہی تھا کہ ایک بزرگ شہری، جو روزانہ پارک میں واک کرتے ہیں، ان سے سوال کیا گیا۔ وہ بھی خالی ہاتھ نکلے۔یہ منظر دیکھ کر دل نے آہستہ سے کہا،”مبارک ہو پاکستان، ہم نے تعلیم کو واقعی کاغذوں تک محدود کر دیا ہے۔”ہم نے بچوں کو رٹّا تو لگا دیا،سوچنا سکھانا بھول گئے۔ہم نے نمبر تو دے دیے،سمجھ چھین لی۔پچھلے ہفتے ہی ایک اور ویڈیو دیکھی، گلشنِ اقبال پارک لاہور میں بچے علامہ اقبال کے مجسمے کو تھپڑ مار رہے تھے۔ شاید انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کون تھے، یا شاید ہمیں پروا ہی نہیں رہی کہ بچوں کو کیا سکھایا جا رہا ہے۔
اور پھر ایک اور خبر،یونیورسٹی آف لاہور کا طالب علم، تیسری منزل سے کود کر جان دے گیا۔وجہ کچھ بھی ہو، دباؤ، تناؤ، تنہائی،
لیکن سوال ایک ہی ہے،
کیا ہم نے کبھی بچوں کو جینا سکھایا؟آج ہمارے بچے سوالوں سے ڈرتے ہیں،کل شاید زندگی سے بھی ڈرنے لگیں۔یہ طنز ہے، مگر سچ بھی ہے۔یہ ہنسی کے پیچھے چھپا ہوا رونا ہے۔تعلیم صرف کتابوں کا نام نہیں،
یہ شعور ہے، سمجھ ہے، انسان بننے کا عمل ہے۔اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ کیا،تو کل ہمارے بچے صرف سوالوں کا جواب ہی نہیں،اپنا راستہ بھی بھول جائیں گے۔اور پھر ہم کہیں گے،
"بچوں میں آج کل کچھ نہیں رہا۔”شاید قصور بچوں کا نہیں،
شاید آئینہ ہمیں کچھ اور دکھا رہا ہے۔
- دسمبر 22, 2025
ہم پاکستانی اور ہماری جنرل نالج، ایک طنزیہ نوحہ
- by muneeb sardar
- 0 Comments
- 390 Views
Share: