(اُردو ایکسپریس) تحریر (عمران ملک)
کیا یونیورسٹی آف لاھور کے ٹاکسک کلچر نوجوان طالب علموں کو خود کشی پر مجبور کر دیا؟ کچھ ہی ہفتوں میں لاھور کی مشہور اور بڑی یونیورسٹی آف لاھور کے دو طالب علموں نے خود کشی کی، ایک سیریس کنڈیشن میں جنرل ہسپتال کی آئی سی یو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہیں اور اس سے پہلے ایک طالب علم نے بھی خود کشی کی اور یونیورسٹی کے چوتھے فلور سے کود گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکے گھر والے پولیس اور کالج کی تفتیش سے مطمئن نہیں، اور آج ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے دوسرے فلور سے کود کر خود کشی کی کوشش کی اور شدید زخمی ہو گئی، گھر والوں کا کہنا ہے کے کل رات فاطمہ سے بات ہوئی اور وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی، پریشان یا ٹینشن میں بالکل بھی نہیں تھی، پھر کیا وجہ بنی کے چند ہی ہفتوں میں دو خودکشیاں اور ایک ہی کالج میں، اور دونوں طالبعلم بھی میڈیکل فیلڈ سے، کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس ڈیپارٹمینٹ کا آڈٹ ہونا ضروری ہے؟ کالج انتظامیہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا، اور ان وجوہات کو ڈھونڈھنا ہو گا کہاں کیا چیز غلط ہو رہی؟ کون سے ایسے عوامل ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے؟ کیا سوشل میڈیا بھی ہمارے طالب علموں کو اس ڈگر پر ڈال رہا کے ان کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھ رہے ہیں؟ کیا گریڈز کی ٹینشن بھی اہم فیکٹر جس پر دنیا بھر میں بحث ہو رہی؟ کیا ہمارے تعلیمی اداروں کو بھی اپنے رولز پر نظر ثانی کی ضرورت؟ طالب علموں کو یونیورسٹیوں کے ٹاکسک کلچر سے نکالنا ہو گا، اس سے پہلے کے پانی سروں سے گزر جائے؟