(اُردو ایکسپریس) بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے کتب فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتابیں ضبط کر لیں۔ اطلاعات کے مطابق، سری نگر سمیت دیگر علاقوں میں درجنوں دکانوں پر چھاپے مارے گئے، جہاں سادہ لباس میں موجود اہلکاروں نے اسلامی لٹریچر کو بین قرار دیتے ہوئے تمام کاپیاں اٹھا لیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ کتب ایک کالعدم تنظیم کے نظریات کو فروغ دے سکتی ہیں، تاہم مقامی افراد اور سیاسی رہنماؤں نے اس اقدام پر شدید ردعمل دیا ہے۔ حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اس کارروائی کو آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا، جبکہ پاکستان نے بھی بھارتی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں علمی و فکری آزادی پر قدغن اور بھارتی حکومت کی دباؤ کی پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔