تازہ ترین ٹیکنالوجی

پاکستان میں 5G، بڑی پیشرفت سامنے آ گئی

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) اسلام آباد: پاکستان میں فائیو جی کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آ گئی۔

 

وفاقی حکومت نے ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے پالیسی ڈائریکٹو جاری کر دیا ہے، جس کے بعد فروری کے وسط میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔پالیسی ڈائریکٹو کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو شفاف اور مسابقتی نیلامی کرانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

 

ملک میں براڈبینڈ صارفین کی تعداد 15 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 2014 سے 2021 کے دوران مختلف بینڈز میں اسپیکٹرم کی نیلامی ہو چکی ہے۔ نئی نیلامی میں موجودہ موبائل آپریٹرز کے ساتھ ساتھ نئے سرمایہ کار بھی حصہ لے سکیں گے۔

 

پالیسی کے مطابق 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا۔ 700 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی بنیادی قیمت 65 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز مقرر کی گئی ہے جبکہ 1800 اور 2100 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی قیمت 1 کروڑ 40 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز ہوگی۔

 

2300 میگا ہرٹز بینڈ کے لیے قیمت 10 لاکھ ڈالر فی میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز کے لیے 12 لاکھ 50 ہزار ڈالر اور 3500 میگا ہرٹز بینڈ کی قیمت 6 لاکھ 50 ہزار ڈالر فی میگا ہرٹز مقرر کی گئی ہے۔

 

پالیسی کے مطابق اسپیکٹرم فیس پاکستانی روپے میں ادا کی جائے گی جبکہ ڈالر ریٹ لاک کیا جائے گا۔ فائیو جی اسپیکٹرم ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوگا، یعنی کسی ایک مخصوص ٹیکنالوجی کی پابندی نہیں ہوگی اور نیلام شدہ اسپیکٹرم تمام موجودہ اور آئندہ آنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے قابل استعمال ہوگا۔

 

فائیو جی لائسنس کے تحت مرحلہ وار نیٹ ورک رول آؤٹ لازمی ہوگا، جس میں شہروں، سائٹس اور فائبر ٹو ٹاور اہداف شامل ہوں گے۔ صارفین کے لیے بہتر کوالٹی آف سروس کی شرائط بھی نافذ کی جائیں گی کامیاب بولی دہندگان کو 15 سال کے لیے نیا لائسنس جاری کیا جائے گا جبکہ اسپیکٹرم ٹریڈنگ اور شیئرنگ کی اجازت بھی لائسنس کا حصہ ہوگی۔

 

وفاقی حکومت نے فروری کے وسط میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ پالیسی ڈائریکٹو کے بعد پی ٹی اے انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے