(اُردو ایکسپریس) پاکستان سپر لیگ کی کامیاب ترین فرنچائزز میں شامل لاہور قلندرز اس وقت میدان میں اپنی کارکردگی نہیں بلکہ ایک خاموش مگر سنگین خاندانی اور قانونی جنگ کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ یہ جنگ تین بھائیوں فواد رانا، عاطف رانا اور ثمین رانا کے درمیان لاہور قلندرز کی ملکیت اور کنٹرول پر لڑی جا رہی ہے، جس کا حالیہ فیصلہ ثالثی عدالت نے فواد رانا کے حق میں سنایا ہے۔
21 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق، لاہور قلندرز کے موجودہ منتظمین عاطف اور ثمین رانا کو یا تو فرنچائز کا انتظامی کنٹرول قطر لبریکنٹس کمپنی (QALCO) کو واپس کرنا ہوگا، یا پھر فواد رانا کے حصص کے عوض 2 ارب 30 کروڑ روپے ادا کرنا ہوں گے۔ سود اور دیگر واجبات کے ساتھ یہ رقم 3 ارب روپے سے تجاوز کر جاتی ہے۔
یہ تنازع محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
خاندانی خواب کیسے بکھرا
2015 میں جب پی ایس ایل کا آغاز ہوا تو فواد رانا نے لاہور کی فرنچائز 10 سال کے لیے 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں حاصل کی۔ انہوں نے اسے خاندانی منصوبہ بنایا اور اپنے بھائیوں کو انتظامی معاملات میں شامل کیا۔ پاکستان میں فرنچائز چلانے کے لیے “کوثر رانا ریسورسز” (KRR) کے نام سے کمپنی قائم کی گئی، جس میں اکثریتی شیئرز QALCO کے پاس تھے، یوں فواد رانا کے پاس کنٹرول موجود تھا۔
لیکن 2018 میں اچانک 4 فیصد حصص کی منتقلی نے طاقت کا توازن بدل دیا۔ 2020 میں صورتحال اس وقت سنگین ہو گئی جب فواد رانا کو مبینہ طور پر ایک خریدار کی کہانی سنا کر باقی 47 فیصد حصص بھی بغیر کسی ادائیگی کے منتقل کروا لیے گئے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، جرح کے دوران خود عاطف اور ثمین رانا نے اعتراف کیا کہ ان حصص کے بدلے کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔
’مسٹر نیازی‘ کون ہے؟
2021 میں KRR کی جانب سے تقریباً 30 فیصد حصص ایک نامعلوم شخص ’مسٹر نیازی‘ کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا، جس کے بارے میں نہ فواد رانا کو بروقت آگاہ کیا گیا اور نہ ہی عدالت کے سامنے مکمل تفصیلات پیش کی گئیں۔ عدالت نے اس سودے سے حاصل ہونے والے تمام منافع کا مکمل حساب دینے کا حکم بھی دیا ہے۔
کیا یہ اخلاقی فتح ہے؟
اگرچہ عاطف اور ثمین رانا نے فیصلے کے خلاف اپیل کا عندیہ دیا ہے، مگر اس فیصلے نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ کیا فواد رانا کو نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی فتح بھی حاصل ہوئی ہے؟
پی سی بی کا کردار
ایک اور اہم سوال پاکستان کرکٹ بورڈ کی خاموشی ہے۔ فواد رانا کے وکلا نے پی سی بی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک رقم کی ادائیگی یا حصص کی منتقلی مکمل نہیں ہوتی، عاطف اور ثمین رانا کے ساتھ کسی بڑے فیصلے سے گریز کیا جائے۔
یہ تنازع صرف ایک فرنچائز کا نہیں بلکہ پی ایس ایل کی گورننس، شفافیت اور مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ہے۔