تازہ ترین کھیل

پشاور کے فینز کے ساتھ ناانصافی، زلمی میں اپنے ہی کھلاڑی کیوں نہیں؟

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) ٹیم پشاور کی کھلاڑی پنجاب کے .

پشاور زلمی پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کی سب سے مقبول ٹیم ہے اور اس ٹیم کی مقبولیت لفظ پشاور سے ہے کیونکہ یہ ٹیم جس صوبے کی نمائندگی کرتی ہے اس صوبے کے لوگوں کو کرکٹ سے جنون کی حد تک پیار ہے

کرکٹ کے دیوانوں کیساتھ یہ صوبے کرکٹ کے ٹیلنٹ سے بھی بھر پور ہے مگر جیسے کے پی کے وسائل سے دوسرے صوبے مستفید ہورہے ہیں ٹھیک اسی طرح پاکستان سپر لیگ میں بھی ہمارے صوبے کے ٹیلنٹ سے دوسری ٹیمیں فائدہ اٹھا رہی ہے

پشاور زلمی کا پہلے دو ایونٹس کا اسکواڈ چھوڑ کر باقی ماندہ 8 ایڈیشنز کے اسکواڈ چیک کریں تو ہر سیزن کا اسکواڈ بدتر سے ترین رہا مگر خوش قسمتی سے یہ ٹیم پھر بھی سپر فور تک کوالیفائی کرتی رہی

جاوید آفریدی جس نے ہمیشہ سے دوسرے صوبوں کے کھلاڑیوں کو ترجیح دی کامران اکمل وہاب ریاض محمد حفیظ شعیب ملک حتی کے امام الحق جیسے بیٹسمین کو بھی اس فرنچائز نے کھیلایا

اس پی ایس کی ڈرافٹ سے پہلے زلمی کے پاس موقع تھا وہ خوشدل اور عباس آفریدی کو ٹریڈ کے زریعے اپنی ٹیم میں شامل کرسکتے تھے ساجد خان جیسا لوکل لڑکا بھی اس ٹیم کی نمائندگی کا شرف حاصل کرنے کا اہل تھا سوات کا عمران جونئیر اس ٹیم میں ضرور ہونا چاہیے تھا جو انجرڈ احسان سے زیادہ احسان کرسکتا تھا اس ٹیم پر مگر یہاں پنجاب سے گئے گزرے کھلاڑی جاوید آفریدی کو بہا گئے

اگر پشاور کی ٹیم اپنے صوبے کے کھلاڑیوں پر ہی مشتمل ہو تو اس ٹیم کو ہرانا کسی بھی ٹیم کے لیے مشکل چیلنج ہوگا

جبکے دوسری طرف انٹرنیشنل پلیئرز بھی ایسے چنے جن کا ان کنڈیشنز میں کھیلنے کا کوئی تجربہ ہی نہیں

اگر زلمی کے اونر اور مینجمنٹ کی یہی سوچ رہی تو بہت جلد لوگ پشاور کے نام پر بھی اس ٹیم کو سپورٹ کرنا چھوڑ دینگے .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے