(اُردو ایکسپریس) بالی ووڈ کی دنیا میں کبھی کبھی قسمت اداکاروں کے ساتھ ایسا کھیل کھیلتی ہے کہ ان کی محنت، لگن اور شہرت کا خواب کبھی حقیقت نہیں بنتا۔ منوج کمار کے بیٹے کنال گوسوامی کی کہانی بھی اس بات کا زندہ نمونہ ہے۔ کنال گوسوامی نے اپنے کیریئر کا آغاز 1981 میں فلم ’’کرانتی‘‘ سے کیا، جس میں دلیپ کمار، ہیما مالینی، ونود کھنہ، پروین بابی اور ششی کپور جیسے بڑے اداکار شامل تھے۔ اس کے بعد 1983 کی فلم ’’کلاکار‘‘ میں مرکزی کردار کے طور پر سری دیوی کے ساتھ کام کیا، لیکن اس کے باوجود فلمی دنیا میں کنال کا نام نہ بن سکا۔
اگرچہ کنال نے کئی فلموں میں کام کیا جیسے ’’گھنگرو‘‘، ’’دو گلاب‘‘ اور ’’پاپ کی کمائی‘‘، لیکن یہ تمام فلمیں فلاپ ثابت ہوئیں۔ بالی ووڈ میں ایک کامیاب اداکار بننے کی خواہش کے باوجود، کنال کو کبھی وہ شہرت نہ مل سکی جس کا وہ خواب دیکھتے تھے۔ ان کی ناکامی کے بعد، کنال نے فیصلہ کیا کہ اداکاری کے میدان میں ان کا مستقبل نہیں ہے اور فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا۔ آج کل وہ دہلی میں ایک کیٹرنگ کاروبار کے مالک ہیں اور ایک کامیاب تاجر بن چکے ہیں۔
کنال کی کہانی اس بات کا غماز ہے کہ بالی ووڈ میں صرف شہرت کے لیے اداکاروں کا خاندان ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی اس بات کا سبق دیتی ہے کہ قسمت اور محنت کا کھیل کبھی بھی کوئی یقینی نتیجہ نہیں لا سکتا۔