(اُردو ایکسپریس) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے علیمہ خان، عظمیٰ خان، نورین نیازی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ جو ناروا سلوک روا رکھا گیا، وہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ریاستی جبر کی بدترین مثال بھی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس عمل کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کے علمبرداروں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں وہ فورم بتایا جائے جہاں ہم انصاف کے لیے آواز بلند کریں، کیونکہ اس وقت ملک میں قانون اور آئین دونوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔”
علی امین گنڈا پور نے فارم 47 کی بنیاد پر قائم حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جعلی حکمران عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو دبانے کے لیے تمام اخلاقی حدیں عبور کر چکے ہیں۔ "ایسی فسطائی حرکتیں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں، ہم پہلے بھی ڈٹے رہے ہیں اور اب بھی ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی غیر قانونی قید اور ان کی بہنوں سے ملاقات کی اجازت نہ دینا عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ "یہ حکومت نہ قانون کو مانتی ہے، نہ عدلیہ کو، اور نہ ہی انسانی حقوق کو، اس سے ملک انارکی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔”