(اُردو ایکسپریس) غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبر پختون خوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن میں حکومت کو اپوزیشن پر برتری حاصل ہے۔ خواتین کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور پی ٹی آئی کی روبینہ ناز سینیٹرز منتخب ہو گئیں۔ ٹیکنوکریٹ نشست پر پی ٹی آئی کے اعظم سواتی، مراد سعید، فیصل جاوید اور نورالحق قادری جبکہ جے یو آئی کے دلاورخان، امیر مقام کے فرزند نیاز احمد، پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود بھی کامیاب ہو گئے۔
خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی گیارہ نشستوں پر انتخاب مکمل ہو گیا ہے، جہاں پچیس امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ کل ووٹ 144 کاسٹ ہوئے، 2 ووٹ مسترد ہوئے۔ خواتین کی نشستوں پر 143 ووٹ کاسٹ ہوئے۔
سینیٹ کی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور پی ٹی آئی کی روبینہ ناز نے میدان مار لیا۔ روبینہ خالد نے 52 ووٹ حاصل کیے جبکہ روبینہ ناز نے 89 ووٹ حاصل کیے۔ ٹیکنوکریٹ نشست پر پی ٹی آئی کے اعظم سواتی اور جے یو آئی کے دلاور خان بھی کامیاب ہو گئے۔
اعظم سواتی نے 89 ووٹ حاصل کئے جبکہ دلاور خان 54 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے جنرل نشست پر مراد سعید اور فیصل جاوید اور نورالحق قادری سنیٹرز منتخب ہو گئے۔ مراد سعید نے جنرل نشست پر 26، فیصل جاوید 22 اور نورالحق قادری نے 21 اور مرزا آفریدی نے 21 ووٹ حاصل کیے۔
وفاقی وزیر امیر مقام کے فرزند نیاز احمد بھی جنرل نشست پر ایوان بالا پہنچ گئے۔ پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود نے 17 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔
ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد 92 جبکہ اپوزیشن ممبران کی تعداد 53 ہے۔ جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشستوں پر مجموعی طور پر 12 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ انتخابی قواعد کے مطابق جنرل نشست پر ایک سینیٹر منتخب کرنے کے لیے 19 ووٹ درکار ہیں۔
خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن نے 6 اور 5 نشستوں کا فارمولا طے کیا ۔ فارمولے کے مطابق حکومت کے حصے میں 6 جبکہ اپوزیشن کے حصے میں 5 نشستیں آئیں گی۔کے پی سے جنرل نشستوں پر حکومت کے 4 اور اپوزیشن کے 3 امیدوار مقابلے میں ہیں جبکہ خواتین اور ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر حکومت اور اپوزیشن کے 2، 2 امیدوار نامزد ہیں۔
پی ٹی آئی نے جنرل نشستوں کے لیے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی، نورالحق قادری کو نامزد کیا ہے جبکہ روبینہ ناز، اعظم سواتی بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں میں شامل ہیں۔ اپوزیشن کی جنرل نشستوں پر ن لیگ سے نیاز احمد، پیپلز پارٹی سے طلحہ محمود، جے یو آئی سے عطاء الحق امیدوار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور جے یو آئی کے دلاور خان بھی میدان میں ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کی میڈیا سے گفتگو
وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کا عمل مکمل ہوا، جب تک نتائج نہیں آئیں گے، کچھ نہیں پتہ چلتا کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے کہ نہیں۔ کاؤنٹگ کے بعد ہی تبصرہ کر سکوں گا۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ نتائج کے بعد فارمولے کا پتہ چلے گا کہ صحیح ہوا کہ نہیں، قبل از وقت نتائج آنے سے پہلے بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مختصراً تعطل کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نشستوں کے فارمولے اور دیگر امور پر اختلافات کے باعث ووٹنگ رکی تھی۔
ذرائع کے مطابق جرگہ ہال میں پولنگ کا ماحول تیار تھا، مگر اراکین اسمبلی ووٹ کاسٹ نہیں کر رہے تھے۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی بیٹھک لگی۔ جن میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، اپوزیشن لیڈر ڈالکٹر عباد اللہ، صوبائی وزرا اور اپوزیشن جماعتوں کے اہم اراکین شریک تھے۔
بعدازاں، پولنگ کا عمل دوبارہ شروع ہوا لیکن انتہائی ست روی کا شکار رہا۔ دوپہر ڈیڑھ بجے تک صرف 17 ووٹ ہی کاسٹ ہو سکے۔ جن میں میں 7 حکومتی اور 10 اپوزیشن اراکین شامل تھے۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر گزشتہ روز اتفاق رائے ہوا تھا، جس کے تحت حکومت کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں دی گئی ہیں۔
پولنگ کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا، مذکورہ ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ اسٹیشنز میں موبائل فون یا کسی بھی قسم کی الیکٹرانک ڈیوائس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جبکہ بیلٹ پیپر کی تصویر لینا بھی سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔