پاکستان تازہ ترین

وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر میں سندھ، پنجاب، اسلام آباد سے پولیس اور رینجرز بھیجنے کا فیصلہ کرلیا

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر میں امن و امان کی کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے سندھ، پنجاب اور اسلام آباد سے پولیس کے جوانوں اور ریجنرز کو آزاد کشمیر بھیجنے کا انتظام کر لیا۔ ذمہ دار سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایک ہزار پنجاب رینجرز اور 2 ہزار فرنٹیئر کانسٹیبلری آزاد کشمیر جائے گی ۔

اسلام آباد پولیس کے 2 ہزار جوانوں کے ساتھ سندھ پولیس کے 1 ہزار جوانوں کو بھی عارضی طور پر آزاد کشمیر بھیجا جائے گا۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ سال عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے کئی گروپوں نے مل کر تشدد اور توڑ پھوڑ سے بھرا احتجاج شروع کیا تو آزاد کشمیر کی اس وقت کی حکومت اسے کنٹرول کرنے مین ناکام رہی تھی اور وفاقی حکومت کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے کے لئے ضروری نفری بھیجنے مین قدرے تاخیر سامنے آئی تھی۔اب انہی گروپوں پر مشتمل کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کہ جانب سے کشمیر بھر میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے تو وفاقی حکومت نے کسی ممکنہ تشدد اور توڑ پھوڑ کی کوشش سے نمٹنے کے لئے پہلے ہی انتظام کر دیا ہے۔ ہڑتال کی کال دینے والے گروپ جو مطالبات کر رہے تھے ان مین سے بیشتر کو وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی موجودہ پیپلز پارٹی حکومت پورا کر چکے ہیں تاہم آئین میں ترامیم سے متعلق کسی مطالبہ کے متعلق آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز اجلاس کا متفقہ فیصلہ سامنے آ چکا ہے کہ یہ کام آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے منتخب نمائندوں کا ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے ہڑتال کی کال دینے والوں کے ساتھ مذاکرات کئے ہیں لیکن پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ اور دیگر آئینی ترامیم کے مطالبے ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان معاملات کو صرف قانون ساز اسمبلی دیکھ سکتی ہے۔ اور موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں نیا مینڈیٹ لے کر آنے والے نمائندے آئین کے متعلق ہر معاملہ کو دیکھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے