پاکستان تازہ ترین

مینار پاکستان میں سیڑھیاں، لفٹ تو موجود مگر 14 سال سے اوپر جانے پر پابندی کیوں؟

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) مینار کے اوپر جانے کی اجازت اس سال بھی نہیں ہے۔‘ایک سوال کے جواب میں محمد ذیشان نے بتایا کہ سیاسی جماعتیں اکثر مینار پاکستان میں جلسے رکھتی ہیں، جن میں کارکن یہاں توڑ پھوڑ کرتے اور کئی چیزیں خراب کر جاتے ہیں۔’مینار پاکستان کے اطراف جو 102 رنگ برنگے پرچم لہراتے تھے، نیچے تالاب بنا تھا جس میں مینار کا عکس دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ سب کچھ سیاسی اجتماعات کی وجہ سے خراب ہو گیا اور اب موجود نہیں ہے۔‘

ملک کے مختلف شہروں سے مینار پاکستان دیکھنے کے لئے آنے والے شہریوں نے اپنے اس تاریخی ورثے کو بہترین یادگاری تعمیر قرار دیا۔ لیکن انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے لئے اس مینار کے اوپر چڑھنے کا راستہ کھولا جائے تاکہ ماضی کی طرح اب بھی لوگ اس کے اوپر جاکر شہر کا نظارہ کر سکیں۔ انتظامیہ مسائل پر قابو پانے کے لئے سکیورٹی بڑھا کر راستہ کھول سکتی ہے۔

مینار پاکستان اور اس گراو¿نڈ کی سکیورٹی پر 35 سال تک سکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے سابق سکیورٹی سربراہ ضمیر حسین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مینار پاکستان کی تعمیر کا کام مقامی تعمیراتی کمپنی کے ذریعے 23 مارچ 1960 کو شروع اور 21 اکتوبر 1968 کو مکمل کیا گیا، جس پر کی لاگت 75 لاکھ روپے آئی۔

مینار پاکستان کی عمارے کی بلندی 196 فٹ ہے اور مینار کے اوپر جانے کے لئے 324 سیڑھیاں ہیں جبکہ اس کے علاوہ جدید لفٹ بھی نصب ہے۔ مینار کا نچلا حصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کی سنگ مرمر کی دیواروں پرقرآنی آیات، محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے اقوال اور پاکستان کی آزادی کی مختصر تاریخ کندہ ہے۔ اس کے علاوہ قرارداد پاکستان کا مکمل متن بھی اردو اور بنگالی زبانوں میں اس کی دیواروں پر درج کیا گیا ہے۔ مینار پاکستان کے احاطے میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حنیف جالندھری کا مزار بھی واقع ہے، جبکہ اس کے اردگرد خوبصورت سبزہ زار، فوارے، راہداریاں اور ایک جھیل بھی موجود ہیں۔لاہور انتظامیہ نے جون 1984 میں مینار پاکستان کا انتظام اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے