(اُردو ایکسپریس) ”عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ؟ صدر کراچی بار پر قاتلانہ حملہ، وکلا برادری سراپا احتجاج!“
تفصیلات:
کراچی میں ایک ہولناک واقعے نے قانونی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے — کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ پر مبینہ قاتلانہ حملہ کیا گیا، جو کہ ایک منظم سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پاکستان کی آزاد عدلیہ اور وکلا کی خودمختاری پر ایک کھلا وار سمجھا جا رہا ہے۔
عامر نواز وڑائچ، جو دریائے سندھ سے پانی کے انخلا کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے، نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ان کے سخت مؤقف کا نتیجہ ہے۔ حملے میں 6 افراد ملوث تھے جنہوں نے مکمل منصوبہ بندی سے ان پر حملہ کیا۔ خوش قسمتی سے، وہ محفوظ رہے اور اب ڈاکٹروں کی اجازت کے بعد اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔
ادھر، سندھ ہائیکورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، اور عدالتی ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے عدالت کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے باہر سراپا احتجاج ہے اور واقعے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
ادھر ایسوسی ایشن آف کورٹ رپورٹرز نے بھی اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عامر نواز عوامی مفاد کے مقدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، اور یہ حملہ ایک خاموش پیغام ہے جو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
سندھ حکومت کی جانب سے نوٹس تو لیا گیا ہے، لیکن وکلا برادری اور عوامی حلقے اب عملی اقدامات اور فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔