تازہ ترین دنیا

تہران کے بعد قُم میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی تاریخی نمازِ جنازہ؛

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران کے بعد اب مقدس شہر قم میں بھی ادا کر دی گئی ہے جہاں لاکھوں افراد نے اس تاریخی جلوس میں شرکت کی۔

 

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار ارکان کی نمازِ جنازہ قم شہر کے مضافات میں واقع مسجدِ جمکران میں ادا کی گئی۔

ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے لیے مسجد میں سوگواروں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہے۔

 

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سابق سپریم لیڈر کے جسدِ خاکی کو دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع شہر قُم پہنچایا گیا، جہاں منگل کے روز جنازے کا جلوس نکالا گیا۔

 

ایران میں اس وقت چھ روزہ سرکاری سوگ کی تقریبات جاری ہیں جن کا اختتام جمعرات کو مشہد میں خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ہوگا۔

 

گزشتہ روز دارالحکومت تہران میں مسلسل تیسرے دن لاکھوں لوگ سڑکوں پر نظر آئے اور جنازے اور اس کے بعد جلوس میں میں شرکت کی۔ اس دوران ایک بڑے ٹرک پر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے خاندان کے اُن چار افراد کے جسدِ خاکی رکھے گئے تھے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایک حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

 

یہ ٹرک تہران کی بڑی سڑکوں سے ہوتا ہوا شہر کے مغرب میں واقع آزادی اسکوائر کی طرف بڑھتا رہا۔

 

سرکاری ٹی وی نے تہران کی بڑی شاہراہوں پر سوگواروں کے سمندر کی تصویریں دکھائیں اور بتایا کہ اس جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے ہیں، اور یہ مجمع سن 1989 میں ہونے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے تاریخی جنازے جیسا ہی بڑا تھا۔

 

کالے کپڑے پہنے ہوئے غمزدہ لوگوں نے ان تابوتوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، جن میں خامنہ ای کی چودہ ماہ کی معصوم نواسی کا چھوٹا سا تابوت بھی شامل تھا۔

 

جنازے میں شریک حامد نامی ایک شخص نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنا تھا، لیکن ہمارے رہنما نے اس تقسیم کو روک دیا۔ ایرانی عوام یہاں اس کام کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں جو انہوں نے ایران کے لیے کیا۔

 

مرضیہ نامی ایک اور خاتون سوگوار نے کہا کہ ہم یہاں اپنے شہید رہنما کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہم یہاں ان سے اپنی وفاداری کا عہد دہرانے آئے ہیں جنہوں نے تقریباً چالیس سال تک ایران پر حکومت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے