(اردو ایکسپریس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اوول آفس میں موجود ہیں جہاں ایک انتہائی اہم اجلاس جاری ہے۔ حقیقت اس اجلاس میں آئندہ کے مراحل پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات خطے کی صورتحال پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ صدر ٹرمپ عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملوں کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک دوسرا امکان یہ بھی زیر غور ہے کہ امریکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیجنے پر آمادہ ہو جائے، جہاں بالواسطہ یا براہِ راست بات چیت کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوتی دکھائی دے رہی تھی اور ہفتے کے روز بات چیت کا آغاز متوقع تھا۔ لیکن اچانک ہفتہ کی صبح صدر ٹرمپ نے اپنے دو اہم نمائندوں، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، کو اس دورے سے روک دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اتنا طویل سفر، جو تقریباً 18 گھنٹے پر مشتمل ہے، اس وقت بے مقصد ہوگا کیونکہ ابھی تک کوئی ٹھوس نکات زیر بحث نہیں آئے۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے ایران کو پیغام دیا کہ وہ نئی تجاویز کے ساتھ رابطہ کرے، اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کے پاس تمام تر اختیار اور برتری موجود ہے۔امریکی مؤقف واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں۔ صدر ٹرمپ متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، نہ اب اور نہ ہی مستقبل میں، اور یہی شرط کسی بھی ممکنہ معاہدے کی بنیاد ہوگی۔
فی الوقت صدر ٹرمپ اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ آئندہ کے اقدامات پر مشاورت میں مصروف ہیں، اور آنے والے چند گھنٹے اس حوالے سے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں