(اردو ایکسپریس) بنگلادیشی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کے زیر قیادت اتحاد نے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 151 نشستیں جیت چکی ہے جبکہ ان کے اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں حاصل کیں ، طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔ رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کو اب تک 34نشستیں ملی ہیں جبکہ 30 نشستوں پر امیدوار کھڑا کرنے والی جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی 5 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔ بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔ ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔