(اُردو ایکسپریس) چین کی جانب سے تبت میں برہم پترا دریا پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔
چین کے مطابق یہ ڈیم صرف بجلی بنانے کے لیے ہے، تاہم بھارت کو خدشہ لاحق ہے کہ اس چینی منصوبے کے باعث دریا کا پانی بہت کم ہو سکتا ہے، جس سے نچلے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں رہائشیوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا جو پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ مگر جہاں بھارت نے پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی ہے وہیں انہیں بھی چین سے یہ خوف ہے کہ وہ برہم پترا دریا سے پانی کی فراہمی روک نہ دے۔
دریائے برہم پترا کی اسٹریٹجک اہمیت
برہم پترا دریا بھارت کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو تبت سے بہتا ہوا بھارت کے شمال مشرقی علاقوں سے گزر کر آخر میں بنگلہ دیش پہنچتا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ وہ تبت میں ایک بہت بڑا ڈیم بنائے، جو دریا کے بہاؤ کو کافی حد تک بدل سکتا ہے اور بھارت اور بنگلہ دیش کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ منصوبہ 137 ارب ڈالر کا ہے اور اسے ہمالیہ کے حساس قدرتی علاقے میں بنایا جا رہا ہے۔ یہ ڈیم اس جگہ تعمیر کیا جانے کا منصوبہ ہے جہاں برہم پترا دریا ایک سخت موڑ کاٹتا ہے اور بھارت کی ریاست اروناچل پردیش میں داخل ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر صرف اپنے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور جو بھارت، بنگلادیش کے پانی کے بہاؤ کو متاثر نہیں کرے گا۔ تاہم بھارت کو چین کے اس بیان سے تسلی نہیں۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ اتنے بڑے منصوبے سے دریا کا پانی کم ہو سکتا ہے، جس سے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں کھیتی باڑی، بجلی پیدا کرنے اور کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔