(اُردو ایکسپریس) تحریر: عمران ملک
لاہور: پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ (PSMCL) کے سی ای او اور مینیجنگ ڈائریکٹر، ہیروشی کاوامورا نے لاہور میں ایک خصوصی میڈیا بریفنگ کی، جس میں ان کے ہمراہ عامر شفیع (جی ایم سیلز اینڈ مارکیٹنگ)، سید وجاہت علی (جی ایم مارکیٹنگ اینڈ آفٹر سیلز) اور اخلاق وِرک (جی ایم ہیڈ کارپوریٹ افیئرز) بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کمپنی کی ترقی، آنے والے SUV ماڈل، آلٹو کی کارکردگی اور جاپان سے درآمد شدہ گاڑیوں کے مقامی انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات پر کھل کر بات کی گئی۔
آلٹو کی کارکردگی پر سوالات کا جواب
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سوزوکی آلٹو ایک جدید فیچرز سے لیس گاڑی ہے جس میں ایئر بیگز سمیت سیفٹی کے تمام جدید تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
موٹر وے پر آلٹو کے ہلنے والے واقعے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ واقعہ حقائق پر مبنی نہیں تھا بلکہ غلط معلومات پھیلائی گئیں۔
SUV کب لانچ ہوگی؟
سوزوکی کی طرف سے تصدیق کی گئی کہ کمپنی جلد پاکستان میں اپنی SUV متعارف کرانے جا رہی ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ مارکیٹنگ ڈائریکٹر کے مطابق یہ SUV سائز میں Toyota Raize یا Daihatsu Rocky جتنی ہوگی۔
امپورٹڈ جاپانی گاڑیوں پر تشویش
ہیروشی کاوامورا نے جاپان سے آنے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا:
"دنیا کا کوئی بھی ملک، جہاں مقامی آٹو انڈسٹری مضبوط ہو، وہاں استعمال شدہ گاڑیوں کی اتنی بڑی مقدار میں درآمد کی اجازت نہیں دی جاتی۔”
ان کا کہنا تھا کہ مقامی انڈسٹری صرف 40 فیصد استعداد پر کام کر رہی ہے، اور اگر حکومت نے پالیسی نہ بدلی تو پاکستانی آٹو انڈسٹری کا انجام بھی آسٹریلیا جیسا ہو سکتا ہے جہاں یہ انڈسٹری مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔
سوزوکی کی ایکسپورٹ اور مقامی انڈسٹری میں سرمایہ کاری
پاک سوزوکی اب تک 3,000 سے زائد راوی پک اپس بنگلہ دیش اور نیپال کو ایکسپورٹ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ یورپ، جاپان، ویتنام اور انڈونیشیا کو اسپیئر پارٹس بھیجے جا چکے ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ وہ سالانہ 50 ارب روپے مالیت کے لوکل پارٹس خریدتی ہے اور 100 سے زائد مقامی وینڈرز کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہے۔
حکومتی پالیسی پر تحفظات اور بایو گیس منصوبہ
قومی ٹیرف پالیسی 2025-2030 پر تبصرہ کرتے ہوئے سی ای او نے خبردار کیا کہ CBU گاڑیوں پر ڈیوٹی 15 فیصد تک کم کرنا مقامی انڈسٹری کو برباد کر دے گا۔
ہیروشی کاوامورا نے سوزوکی کے بایو گیس پروجیکٹ پر بھی بات کی، جس کے تحت حیاتیاتی فضلے سے صاف اور قابلِ تجدید ایندھن تیار کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے، ماحول کی بہتری اور دیہی علاقوں میں روزگار بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا۔
آخر میں ہیروشی کاوامورا نے کہا کہ پاک سوزوکی پاکستان کی ترقی، انوویشن اور پائیدار معیشت کے عزم پر قائم ہے، مگر اگر درآمدی پالیسیوں میں اصلاح نہ ہوئی تو مقامی آٹو انڈسٹری کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔
- جولائی 16, 2025
پاک سوزوکی کی میڈیا بریفنگ: آلٹو کی کارکردگی کا دفاع، SUV لانچ کی تیاری اور امپورٹڈ گاڑیوں سے مقامی انڈسٹری کو خطرہ
- by muneeb sardar
- 0 Comments
- 269 Views
Share: