(اردو ایکسپریس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب اپنی تجارتی پالیسوں میں نئے ٹیرف کا اعلان کیا، تو اس کے اثرات دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ پر مرتب ہوئے اور کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بھی زبردست گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ بٹ کوائن کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کمی آئی، جو اب 75,648 ڈالر فی کوائن پر آگئی۔ گزشتہ چند ماہ میں بٹ کوائن کی قیمت میں 34,345 ڈالر کا تاریخی خسارہ آیا ہے، جو کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا۔
2024 کے آخر میں جب امریکہ میں نومنتخب صدر نے معاشی ترقی کے وعدے کیے تھے، تب بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ جنوری 2025 میں بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ 9 ہزار 993 ڈالر تک پہنچ گئی، لیکن ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ کرنسی اب بڑی گراوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔
کرپٹو کی دنیا میں آنے والی اس تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں! کیا آپ نے ابھی تک بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کی ہے؟ کیا آپ اس گراوٹ کے اثرات سے بچنے کے لیے کچھ کر رہے ہیں؟ یہ وقت ہے فیصلہ کرنے کا!