(اُردو ایکسپریس) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ٹیرف کا فرق کم کرنے کی منظوری ملنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف آج پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کا اعلان کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج اللہ پاک کے شکرگزار ہیں کہ میاں نواز شریف کا وہ وعدہ پورا ہوا، جس میں ہم نے اپنے منشور میں کہا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن کو موقع دیا تو رفتہ رفتہ معیشت کی صورت حال بہتر ہوگی، اور بجلی کی قیمتیں کم کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان کے سر پر ڈیفالٹ یعنی دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی، اور کاروباری حضرات بجا طور پر اور قوم عمومی طو پر خوفزدہ تھی، کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، یقین مانئے کہ آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی دنوں میں بزنس کمیونٹی کی ایل سیز کھولنے کے لیے زرمبادلہ نہیں تھا، ملک کے مخالف خوشی سے پاگل ہوئے جارہے تھے، ان کو یقین ہوچلا تھا کہ اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا، انہیں اسی طرح یقین تھا جیسے کسی کی موت آجائے تو کوئی بچا نہیں سکتا، پاکستان اب ڈیفالٹ ہوا تو ہوا، یہ ٹولہ اس مقصد کے لیے ہر حد پار کرگیا تھا، اسی ٹولے نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو خود توڑا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے جو کوششیں ہورہی تھیں، تو انہیں ختم کرنے کیے آئی ایم ایف کو خط لکھے گئے، ملک کیخلاف ایک گھناؤنا کردار ادا کیا گیا، اپنی سیاست پر پاکستان کے مفادات کو قربان کیا گیا، ریاست کا وہ حال کیا گیا، کہ شاید ایسا 77 سال میں کبھی نہیں ہوا ہوگا، بہر کیف جیسے کہ کہتے ہیں کہ ”مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے“۔
انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں اللہ پاک نے ہماری محنت قبول کی، اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچالیا، اس مقصد کے لیے پوری قوم ، بزنس کمیونٹی اور غریب لوگوں نے جو قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کیے، وہ قابل قدر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک ایک فرد کی کاوشیں اللہ کی بارگاہ میں منظور ہوئیں، آج ہم استحکام معیشت کے اس مقام پر کھرے ہیں، جہاں شاید ہمیں پہلے سے زیادہ محنت کرنا پڑے، یہ سفر پہلے سے زیادہ دشوار گزار ہو، پاکستانی قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں، ایسا بھی وقت آیا کہ جب پنشنر بجلی کا بل ادا کردیتا تھا تو اسے معلوم نہیں تھا، کہ بچوں کی دوائیں کہاں سے لائوں گا، یہ وہ وقت تھا کہ بجلی کا بل ادا کرکے گھر میں بے چارگی کا عالم ہوتا تھا۔
ان نکا مزید کہنا تھا کہدکاندار، سرمایہ کار، صنعتکار اپنے اپنے کاروبار کو بند کرنے پر مجبور ہورہے تھے، کہ اتنا مہنگا مال کیسے بیچیں گے، صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکلنا بند ہوگیا۔
’شکرگزار ہوں ہمیں مکمل اختیارات دیکر کام کرنے کی آزادی دی گئی‘
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ میں وزیراعظم شہباز شریف کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہمیں مکمل اختیارات دیکر کام کرنے کی آزادی دی، کسی بھی طرح کسی بھی شخص کی کسی بھی قسم کی کوئی سفارش نہیں کی گئی، بلکہ اپنے رشتے داروں اور پارٹی لیڈرز کا بھی لحاظ نہیں کیا۔
وفاقی وزیر نے پاور ڈویژن، ایف بی آر، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز، افسران اور مختلف ٹیموں کے ارکان کا شکریہ ادا کیا، جن کی کوششوں سے بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہوئی۔
کونسے اعلانات متوقع؟َ
ذرائع کے مطابق ٹیرف کا فرق کم کرنے سے بجلی ایک روپے 71 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے، جبکہ آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے سے ٹیرف میں 4 روپے 73 پیسے کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ نظرثانی شدہ معاہدوں اور دیگر معاملات پر تفصیلات فراہم کریں گے۔
ذرائع کے مطابق سات آئی پی پیز سے حکومت معاہدوں کا خاتمہ کر چکی ہے، سرکاری پاور پلانٹس کا منافع کم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، سرکاری پاور پلانٹس کو ادائیگی مقامی کرنسی میں ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے سے بجلی فی یونٹ ایک روپے سستی ہوگی، جبکہ گردشی قرض ختم کرنے کے پلان سے بھی بجلی کی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق گردشی قرض کم کرنے کیلئے بینکوں سے فکسڈ ریٹ پر 1200 ارب روپے قرض لیا جائے گا، شرح سود ختم کرکے گردشی قرض 2381 ارب سے 300 ارب پر لایا جائے گا۔
لیکن اس سے قبل وزیراعظم کی زیر صدارت پاور سیکٹر کا اعلیٰ سطح اجلاس ہوگا، جس میں اہم وفاقی وزرا بھی شریک ہوں گے
اجلاس میں وزیراعظم شرکاء سے خطاب کریں گے، جس کے بعد بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔