(اُردو ایکسپریس) ساہیوال ؛اوکانوالہ بنگلہ میں ایک لرزہ خیز قتل کیس کا پردہ چاک ہوگیا! 18 فروری کو گاؤں کے رہائشی سید بلال نواز نے جلے ہوئے کچرے میں انسانی پاؤں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ گاؤں والوں نے ایک کتے کو کچرے کے ڈھیر میں کھدائی کرتے دیکھا، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر ایک بری طرح جلی ہوئی اور ناقابل شناخت لاش برآمد کی۔
شناخت مشکل ہونے کے بعد ڈی پی او ساہیوال رانا طاہر نے ڈی ایس پی تاثیر ریاض اور ایس ایچ او شہزاد احمد کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ فرانزک اور پوسٹ مارٹم کے باوجود لاش کی شناخت نہیں ہو رہی تھی، لیکن مزید تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مقتول عمر حیات عرف ملتانی، ندیم عباس شاہ کے فارم ہاؤس میں ملازم تھا اور چند روز قبل اچانک لاپتہ ہوگیا تھا۔
ابتدائی طور پر مقتول کی بیوی شمیم اور والدہ نے لاش کو پہچاننے سے انکار کر دیا، مگر ڈی این اے رپورٹ کے بعد تصدیق ہوگئی کہ جلی ہوئی لاش عمر حیات کی تھی۔
مزید تفتیش کے دوران ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوا— قتل کے پیچھے مقتول کی بیوی شمیم اور اس کے بھائی فدا حسین کا ہاتھ تھا! شمیم نے پولیس کو بتایا کہ عمر کو اس کے مبینہ تعلقات کے بارے میں علم ہو گیا تھا، جس پر دونوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا۔ بدلے کی آگ میں شمیم نے اپنے بھائی فدا کو بلایا، اور دونوں نے مل کر عمر کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ چہرہ مسخ کرنے کے بعد لاش کو جلا کر ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شمیم اور فدا حسین کو گرفتار کر لیا، اور مقدمے کو ٹرائل کے لیے مکمل کر دیا گیا ہے۔