(اُردو ایکسپریس) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، امریکی سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے امریکی تنصیبات پر جوابی حملوں اور ایک امریکی کروز میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹکام کے مطابق قشم جزیرے پر 10 سے 11 میزائل داغے گئے، جبکہ بندر عباس اور جاسک میں بھی متعدد دھماکے ہوئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ سمندری ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ سینٹکام کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل و ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں سمیت درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کی عسکری صلاحیت مزید کمزور کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
امریکی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی کروز میزائل اور ڈرون کو مار گرایا گیا، ادھر ایران نے بوشہر کے جوہری بجلی گھر پر کسی بھی حملے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔
دوسری جانب ایران نے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں امریکی فوج کے زمینی میزائل یونٹ سمیت تیل کی تین تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی کروز میزائل تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز پر طاقت کے ذریعے اپنا کنٹرول برقرار رکھا جائے گا، جبکہ فوجی کارروائی میں معاونت کرنے والے ممالک کو بھی جائز اہداف قرار دیا۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے ممکنہ میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنا فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔