(اردو ایکسپریس) آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال پر حکومت نے آج سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی۔
حکومت نے آزاد کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس آج سے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے جو 12 جون تک بند رہے گی۔
سیاحت و دیگر مقاصد کے لیے آزادکشمیرآنے والے افراد کے لیے بھی حکومت آزاد کشمیر نے ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس میں کہاگیاہے کہ 20 جون تک آزاد کشمیر کے سفر سے گریز کیا جائے۔
احتجاجی کال کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کے 1500 سے زائد افسران و اہلکاروں پر مشتمل فورس آزاد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے سکتے، 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بھی احتجاج پر اصرار عوامی مفاد نہیں بلکہ سیاسی ضد ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے ساتھ 9 جون کو ہڑتال اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے،دوسری جانب حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے جموں و کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیاہے،اس کا نوٹیفکیشن حکومت آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جاری کیا جس نے تنظیم کو آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیاگیاہے، صدر آزاد جموں و کشمیر نے بھی اس کی منظوری دےدی ہے
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد موجود ہیں، تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی،تنظیم عوام کو خوف زدہ کرنے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے میں ملوث ہے، نوٹیفکیشن میں تنظیم پر نفرت کو فروغ دینے اور ریاستی امن متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔