(اُردو ایکسپریس) پاکستان نےیو اے ای کو 3 ارب ڈالرز واپس کرنے کے انتظامات مکمل کرلیے ۔
ذرائع کے مطابق آئندہ ایک ہفتے میں متحدہ عرب امارات کو ادائیگی کردی جائے گی،اسٹیٹ بینک کے ذخائر جون تک 18ارب ڈالرز تک بڑھانےکی حکمت عملی بھی تیارکرلی گئی ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق یو اے ای کو2ارب ڈالرز17 اپریل کو ادا کیےجانے کا امکان ہے، باقی ماندہ ایک ارب ڈالرز23 اپریل کو ادا کرنے کا پلان ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے یو اے ای کو 45 کروڑ ڈالرز کا 30 سالہ پرانا قرضہ واپس کردیا ہے، سعودی عرب کے3 ارب ڈالرز اضافی مالی سہولت سے خلا پر ہو جائے گا،پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ڈپازٹ کاحجم بڑھ کر 8 ارب ڈالرز ہوجائےگا، ڈپازٹ کےعلاوہ پاکستان کومؤخر ادائیگیوں پرتیل کی سہولت بھی ملنےکا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق تیل کی موجودہ ایک ارب ڈالرز کی سعودی سہولت ختم ہونےکےقریب ہے،سعودی عرب اس وقت ماہانہ پاکستان کو 10کروڑ ڈالرزآئل فیسلیٹی فراہم کررہا ہے،سعودی عرب سےرواں مالی سال ایک ارب ڈالرزتیل سہولت فراہمی کا تخمینہ ہے۔
آئی ایم ایف سےاگلی قسط میں ایک ارب21کروڑڈالرزاگلےماہ ملنے کا امکان ہے،آئی ایم ایف اورپاکستان کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ ہوچکا ہے،آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکی منظوری کے بعد پاکستان کو رقم مل جائے گی۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان رواں سال کیپٹل مارکیٹ میں بانڈز بھی جاری کرے گا،چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈجاری کرنے پر بھی کام ہورہا ہے،کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے کا بھی منصوبہ ہے،اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب، چین اور یو اے ای کے12 ارب ڈپازٹ ہیں جس میں سعودی عرب کے 5،چین کے 4 اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالرز کے ڈپازٹ ہیں