(اُردو ایکسپریس) جن نکالنے کے بہانے جعلی پیر کے وحشیانہ تشدد سے 16 سالہ لڑکی جان کی بازی ہار گئی ۔ سندھ کے ضلع خیرپور میں بوزدار وڈا کے قریب ایک مبینہ جعلی پیر کے وحشیانہ تشدد سے 16 سالہ لڑکی جاں بحق ہو گئی۔ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیمار لڑکی کو علاج کے بجائے "عامل” کے پاس لے جایا گیا۔جاں بحق ہونے والی لڑکی فریدہ کے والد امام بخش نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کو بخار تھا لیکن علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے اسے ایک پیر کے پاس لے جایا گیا۔ ورثا کا الزام ہے کہ جعلی پیر نے لڑکی کے جسم سے "جن نکالنے” کے بہانے اس پر بدترین تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔والد امام بخش کا کہنا تھا کہ جعلی پیر کے وحشیانہ تشدد نے میری معصوم بیٹی کی جان لے لی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی خیرپور پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کی لاش کو تحویل میں لے لیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔ پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف شواہد جمع کیے جا رہے ہیں اور جعلی پیر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، اسے جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔