تازہ ترین دنیا

امریکی انٹیلی جنس نے پاکستان کو بھی امریکا کیلئے خطرہ قرار دے دیا

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) امریکا کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کی جانب سے جاری کردہ سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026 میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکا کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکا کو ممکنہ خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکا کے لیے خطرہ بنیں گے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں چونتیس صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکا کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے