(اردو ایکسپریس) سوشل میڈیا پرسنلیٹی اورماہرِ نفسیات ڈاکٹرنبیہہ علی خان کے شوہرکے ساتھ خراب ازدواجی زندگی کے حوالے سے انکشاف کے بعد حارث کھوکھرکے والدکا بیان بھی آگیا ہے۔
حارث کھوکھرکے والد نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگوکرے ہوئے کہاکہ مولاجٹ مردوں میں ہی نہیں عورتوں میں بھی ہوتے ہیں،ڈاکٹرنبیحہ عورتوں کی مولاجٹ ہے،یہ صرف غبارے میں ہواہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے،کسی مردکوآپ کیسے چیلنج کرسکتے ہیں ،اگرمردکوآپ اس حدتک تنگ کردیں گی تو وہ سوچنے پر مجبو ہوجائے گاکہ میں نے کیاجنجھٹ پال لیاہے،حارث کے ساتھ اس کی جوگھرمیں آخری ڈسکشن ہورہی تھی اس میں وہ یہی کہہ رہاتھاکہ تم ایک دودن کے لئے اپنے گھرجاؤایک آدھ دن کے لئے مجھے بھی سکون کرنے دو۔
حارث کھوکھرکے والد نےمزیدکہاکہ حارث شادی سے پہلے اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتاہے اوراپنی تنظیم وائی ایم اے کے لئے کام کرتاتھا،شادی کے بعد وہ ہروقت گھرمیں ہوتاتھااگر باہرجانابھی ہوتاتھاتواس کے ساتھ جاتاتھا،اب ڈاکٹرنبیحہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے باہر نہیں لے کرجاتاتھا،حارث کے کلپس سوشل میڈیاپرموجود ہیں جس میں وہ کم وبیش روزانہ ہی اس کے ساتھ باہرکھاناکھانے جاتاتھا،جس میں دیکھاجاسکتاہے کہ حارث اس کے منہ میں نوالے ڈال رہاہے اوراس کے چونچلے اٹھارہاہے۔
حارث کھوکھرکے والد نے کہاکہ ڈاکٹرنبیحہ نے ایک اورلزام یہ بھی لگایاہے کہ مجھے اپنے بیڈروم کادروازہ بندکرنے کی اجازت نہیں تھی،یہ کوئی سینس کی بات ہے،کیاہم کوئی اجڈلوگ ہیں،ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں ،ہماری فیملی میں پہلے سے بہوئیں بھی ہیں اوربیٹیاں بھی ،میری اپنی بیٹی ہے،یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اسے کہیں کہ آپ دروازہ کھلاچھوڑکرلیٹیں،یہ توعجیت اوربے تکی سی بات ہے جسے کوئی ماننے کوتیارنہیں ہے۔
اس سے قبل حارث کھوکھرنے سوشل میڈیاپرشیئرکی گئی اپنی ایک ویڈیومیں کہاتھاکہ سوشل میڈیاپرمیری بیوی نبیہہ علی خان کابیان سامنے آیاہے جس میں انہوں نے کہاکہ میری ساس اورسسر مجھے ذہنی ٹارچرکرتے ہیں۔
حارث کھوکھرنے کہاتھاکہ میرے گھرمیں میرے بڑے بھائی کی بیوی بھی رہتی ہیں،اگر کوئی عورت خوش نہ ہوتو وہ اس کے چہرے سے نظرآتاہے،اس کاوز ن بھی گرنے لگتاہے،شادی سے پہلے اوربعد میں آپ نبیہہ علی خان کودیکھ لیں آپ کوپتہ چل جائے گا کہ وہ شادی کے بعد خوش تھی یاناخوش؟انہیں کھانابیڈپرملتاتھا،ملازم ان کے کپڑے دھوتے اوراستری کرکے دیتے تھے اس کے بھی ثبوت موجود ہیں۔جہاں تک ان کے گھرسے نکالنے کے الزام کاتعلق ہے تو اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے،انہوں نے خود آن لائن گاڑی منگوائی اورسامان اٹھاکرچلی گئیں جس کے سی سی ٹی وی کیمرے کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
حارث کھوکھرنے مزیدبتایاتھاکہ انہوں نے گھرچھوڑنے سے پہلے میری اجازت بھی نہیں لی،ہمارااختلاف کوئی نہیں تھا،وہ میری عزت ہیں اورمیری بیوی ہیں،خاندانی اورنسلی بندہ کسی کے ساتھ بیٹھ کرکھالے یادوستی رکھی ہو تو وہ کسی پر کیچڑنہیں اچھالتا،عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے جب تک اللہ نہ چاہے کوئی کسی کورسوانہیں کرسکتا،چالاک انسان خود کوسچاثابت کرنے کے لئے بہت سے تیرآزماتاہے،چالیں چلتاہے لیکن اللہ کی ایک ہی چال ہوتی ہے اوراس میں انسان زیرہوجاتاہے۔