(اُردو ایکسپریس) دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے رجحان پر مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ تر روایتی نوکریاں مستقبل میں ختم ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صرف تین ایسے شعبے ہیں جو AI کے اثر سے محفوظ رہیں گے: صحت عامہ، انجینئرنگ و AI ڈیولپمنٹ، اور تخلیقی فنون۔ گیٹس نے حکومتوں اور کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تعلیم میں اصلاحات اور مہارت سازی (reskilling) کے منصوبے شروع کریں تاکہ آئندہ بڑی بیروزگاری سے بچا جا سکے۔
بل گیٹس کے مطابق سب سے پہلے صحت عامہ (Healthcare) ایسا شعبہ ہے جسے مکمل طور پر AI سے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ڈاکٹرز، نرسز، تھیراپسٹ اور کیئرگیورز جیسے افراد جن میں ہمدردی، انسانی تعلق اور جذباتی فہم ہوتی ہے، ان کا متبادل AI نہیں بن سکتا۔ دوسرا محفوظ شعبہ انجینئرنگ اور AI ڈیولپمنٹ ہے۔ AI سسٹمز کو بنانے، چلانے اور بہتر بنانے کے ماہرین جیسے ڈیٹا سائنٹسٹس، پروگرامرز، اور انجینئرز مستقبل میں سب سے زیادہ مطلوب ہوں گے۔ تیسرا شعبہ تخلیقی پروفیشنز (Creative Professions) ہے۔ مصنفین، فنکار، فلم میکرز، گرافک ڈیزائنرز اور دیگر تخلیقی ماہرین کی انسانی سوچ اور جذبات AI سے برتر رہیں گے۔
بل گیٹس نے خبردار کیا:
"اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔”
ان کا کہنا ہے کہ تعلیم اور ہنر سیکھنے کے روایتی طریقے اب کارآمد نہیں رہے۔ حکومتوں اور اداروں کو نئی سوچ، نئی مہارتوں اور AI سے ہم آہنگ نصاب پر فوری کام کرنا ہوگا۔
آج ChatGPT، Grok، اور Gemini جیسے جدید AI پلیٹ فارمز صحافت، قانون، کسٹمر سروس، اور کئی دیگر شعبوں کو تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اس بدلتی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اپنی موجودہ مہارتوں پر نظرِ ثانی کریں، وہ صلاحیتیں سیکھیں جو مشینیں نہیں سیکھ سکتیں، اور سیکھنے، بھولنے اور دوبارہ سیکھنے کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہی مستقبل میں کامیابی کی اصل کنجی ہے۔