(اُردو ایکسپریس) کمبھ میلہ، جو ہر 12 سال بعد پریاگ راج میں منعقد ہوتا ہے، دنیا بھر سے لاکھوں عقیدت مندوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، جہاں وہ مقدس دریا میں اشنان کرکے روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ یاتری روایتاً اس مقدس پانی کے گھونٹ بھی پیتے ہیں، لیکن 2025 کے کمبھ میلے میں پانی کی آلودگی نے سنگین صحت کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ دریا کا آلودہ پانی پینے سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مقامی حکام پانی کے نمونے لے کر اس کی صفائی کے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ عقیدت مندوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اس سال کے میلے میں انتظامی چیلنجز بھی سامنے آئے، خاص طور پر 29 جنوری کو مونی اماوسیہ کے دن، جب مقدس اشنان کے دوران شدید بھگدڑ مچ گئی۔ اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 15 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
انتظامیہ نے حالات قابو میں رکھنے کے لیے 22,000 سے زائد صفائی کے عملے کو تعینات کیا ہے اور لاکھوں عقیدت مندوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ یاتریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریا کا پانی پینے سے گریز کریں اور صحت و صفائی کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ ممکنہ بیماریوں سے بچا جا سکے۔