(اردو ایکسپریس) پاکستان کو اپنی ہی سرزمین پر ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہوگئی۔ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ کرکٹ میں بے جا سیاسی مداخلت ہے، جس نے قومی کرکٹ کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ہر حکومت اپنے من پسند افراد کو نوازنے کے لیے پی سی بی میں اکھاڑ پچھاڑ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیم کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی نسبتاً کمزور ٹیم پاکستان کو شکست دے سکتی ہے۔
بدقسمتی سے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس زوال کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے، کیونکہ جب تک نظام بہتر نہیں ہوگا، محض کپتان بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
رضوان کو کپتان بنایا گیا، لیکن ایک ہی ایونٹ میں شکست کے بعد اس پر اعتماد ختم کر دیا گیا۔
6 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 50رنز بنانے والا ٹی 20 کرکٹ میں 120 کا سٹرائک ریٹ رکھنے والے ٹیسٹ پلیئر سلمان علی آغاکو ٹی 20 ٹیم کا کپتان مقرردیا ہے آفرین ہو پی سی بی کے سوچ پر یعنی ایک ٹیسٹ کھلاڑی رضوان کو ٹی 20 کی کپتانی سے ہٹاکر دوسرے ٹیسٹ پلیئر کو ٹی 20 کاکپتان بنادیا۔
مزید حیران کن فیصلہ یہ ہے کہ ایک عرصہ ٹیم سے باہر رہنے والے اسپنر کو اچانک واپس بلا کر ٹی ٹوئنٹی کا نائب کپتان بنا دیا گیا۔
یہ فیصلے پاکستانی عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہیں۔ جب تک پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے رہیں گے، پاکستان کسی بڑے ایونٹ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات سے ہٹ کر ملکی کرکٹ کے مستقبل کے لیے سوچا جائے۔