(اُردو ایکسپریس) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بانڈہ سے تعلق رکھنے والی شہزادی کی زندگی ایک عام مگر پُرخواب سفر سے ایک المیے میں بدل گئی۔ شہزادی، جو بچپن میں جھلسنے کے نشانات سے نجات پانے کی خواہشمند تھی، فیس بک کے ذریعے آگرہ کے عزیر نامی شخص سے رابطے میں آئی۔ عزیر نے اسے ابوظہبی میں نوکری اور علاج کا وعدہ کیا، جس پر شہزادی سیاحتی ویزے پر وہاں گئی۔
وہ اگست 2022 سے وہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھیں اور اس دوران ان پر چار ماہ کے اس بچے کو قتل کرنے کا الزام لگا جس کی دیکھ بھال کی وہ ذمہ دار تھیں۔
انھیں 10 فروری 2023 کو ابوظہبی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور عدالت نے 31 جولائی 2023 کو انھیں موت کی سزا سنائی تھی۔ والدین سے باقاعدہ ویڈیو کال پر بات کرتی رہی، لیکن پھر اچانک اس کی کالیں بند ہو گئیں۔ کچھ عرصے بعد، اہلِ خانہ کو معلوم ہوا کہ شہزادی ابوظہبی کی جیل میں ہے۔
بانڈہ کے گاؤں گویرا موگلی کی رہائشی شہزادی کو لوگ ایک مددگار اور خوش اخلاق لڑکی کے طور پر یاد کرتے ہیں، جو دوسروں کے سرکاری کاموں میں بھی تعاون کرتی تھی۔ لیکن ابوظہبی میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سب کے لیے ناقابلِ یقین اور افسوسناک ہے۔