(اُردو ایکسپریس) 13 سالہ آیا الدبیح غزہ کے شمال میں اپنے خاندان اور دیگر ہزاروں پناہ گزینوں کے ساتھ ایک سکول میں رہائش پزیر تھیں۔ وہ اپنے والدین کے نو بچوں میں سے ایک تھیں۔
ان کے خاندان کے مطابق غزہ میں جنگ کے ابتدائی دنوں میں آیا سکول کی اوپری منزل پر بنے باتھ روم گئیں اور انھیں ایک اسرائیلی سنائپر نے سینے پر گولی مار دی۔
آیا کے خاندان نے انھیں سکول کے پاس ہی دفنا دیا۔
ان کی 43 سالہ والدہ لینا الدبیح نے انھیں ایک کمبل میں لپیٹ دیا تھا تاکہ اگر ان کی قبر کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کرے تو ان کی لاش ’بارش اور سورج کی روشنی سے محفوظ رہ سکے۔‘
جب اسرائیلی فوج نے سکول کا کنٹرول سنبھالا تو لینا الدبیع وہاں سے غزہ کے جنوبی علاقے میں منتقل ہو گئیں۔
ان کے پاس اپنی بیٹی کی قبر سے دور جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا، تاہم ان کو یہ امید تھی کہ وہ بعد میں یہاں دوبارہ آ کر اپنی بیٹی کو باقیات کو دوبارہ ڈھونڈیں گی اور باقاعدہ ان کے کفن دفن کا انتظام کریں گی۔
لینا الدبیع اپنی بیٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ: ’آیا ایک بہت مہربان لڑکی تھی، ہر کوئی اس سے محبت کرتا تھا اور وہ سب سے محبت کرتی تھی۔ وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور ہمیشہ سب کا بھا چاہتی تھی۔‘
جب اس علاقے میں جنگ بندی ہوئی تو لینا الدبیع وہاں موجود اپنے رہشتہ داروں کو اپنی بیٹی کی قبر دیکھنے کو کہا اور وہاں سے انھیں جو خبر ملی وہ دِل دہلا دینے والی تھی۔
’ہمیں بتایا گیا کہ اس کا سر کہیں اور ہے، دھڑ کہیں دوسری جگہ اور پسلیاں کہیں اور۔ جو عزیز اس کی قبر دیکھنے گئے تھے انھوں نے ہمیں یہ سب چیزیں تصویروں میں دکھائیں۔‘
’جب میں نے اسے دیکھا تو میں سمجھ ہی نہیں پائی کہ اس کا جسم قبر سے کیسے باہر آیا اور کتوں نے اُسے کیسے کھا لیا؟ میں اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتی۔‘
لینا البدیح کے خاندان والوں نے ان کی بیٹی کی ہڈیاں سمیٹ لی ہیں اور اب آیا کی باقیات کو باقاعدہ ایک قبر میں دفن کیا جائے گا۔
غزہ میں جنگ بندی تو ہو گئی ہے لیکن لینا البدیح کے دکھ کا کوئی اختتام نہیں نظر آتا۔
ان کا کہنا ہے کہ: ’میں اس کی لاش کو قبر سے نکال کر اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی۔ بتاؤ میں اُسے کہاں لے کر جاتی؟‘ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔