تازہ ترین ٹیکنالوجی

اے آئی ’کونٹینٹ‘ میں نقائص کی شکایت عام،انسان غلطیاں ٹھیک کرکے لاکھوں کما ئیں گے

Share:
Spread the love

(اُردو ایکسپریس) جو کمپنیاں ملازمین کی جگہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو دینا چاہ رہی تھیں، اب وہی کمپنیاں اے آئی تکنیک کی غلطیوں کو ٹھیک کرنے کے لئے انسانوں کو پیسہ دے رہی ہیں، ایک کمپنی نے ’کونٹینٹ ‘کو کم خرچ میں لکھوانے کیلئے مشین‘ کا سہارا لیا، لیکن اب اسکی غلطیاں سدھارنے کے لئے’ انسان‘ کو فی گھنٹہ100ڈالر کے حساب سے2ہزار ڈالر (5 لاکھ 70روپے سے زائد)ادا کئے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اب ایک نئی صنعت اُبھر رہی ہے جس میں قلمکار اور پروگرامرز’اے آئی‘کی غلطیوں کو درست کرنے کاکام کررہے ہیں۔ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خوب کمائی بھی کر رہے ہیں۔ ’فیوچرزم ڈاٹ کوم‘ پر شائع خبر میں بی بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق، سافٹ ویئر انجینئرز اور قلمکاروں کے لئے ایک نئی انڈسٹری اُبھر رہی ہے، جنہیں ’اے آئی ‘کی پیدا کردہ غلطیاں سدھارنے کے لئے رکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکا کی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والی سارہ اِسکیڈ کی مثال دی جارہی ہے جس کو ایک کونٹینٹ ایجنسی نے مئی میں رابطہ کیا، اس وقت ایجنسی کو مشکل درپیش تھی۔ ایجنسی نے ایک ہاسپٹالیٹی کلائنٹ کے لئے جنریٹیو اے آئی کی مدد سے ویب سائٹ کا متن لکھوایا، لیکن وہ مواد حسب معیار نہیں تھا، طرز تحریر میں مشینی پن بالکل صاف جھلک رہاتھا۔ مجبوراً ایجنسی نے اسے دوبارہ سے لکھوانے کیلئے سارہ اسکیڈ سے رابطہ کیا۔ سارہ نے بتایا کہ ’’ یہ بالکل عام سی تحریر تھی جو عموماً اے آئی کی ہوتی ہے، بالکل سادہ، غیر دلچسپ اور مصنوعی پن والی‘‘بقول سارہ ’’یہ تحریر فروخت بڑھانے والی اور صارف کی توجہ کھینچنے والی ہونا چاہیے تھی، لیکن یہ بہت بے مزہ تھی۔ سارہ اسکڈ جو ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کےلئے کونٹینٹ رائٹنگ کاکام کرتی ہیں، اس نے یہ کام نئے سرے سے لکھنے میں 20گھنٹے لگائے۔ ان کی فی گھنٹہ فیس100ڈالر کی شرح کے مطابق، ایجنسی کو2ہزارڈالر (5 لاکھ 70روپے سے زائد) ادا کرنے پڑے۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سارہ اسکیڈ اس بات سے پریشان نہیں کہ اے آئی ان کا روزگار چھین لے گا، بلکہ اسکے برعکس اے آئی کی غلطیوں نے ان کے لئے زیادہ کام پیدا کر دیا ہے۔سارہ کا کہنا ہے’’ اگر آپ اپنے کام میں ماہر ہیں اور باصلاحیت ہیں تو یقین جانئے آپ کو اے آئی کے سبب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ آپ کو کام ملےگا۔ ” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اکیلی نہیں جنہیں کام مل رہا ہے۔ انکے مطابق بہت سے قلمکار اب نئے مواد تخلیق کرنے کے لئے نہیں بلکہ اے آئی کی خراب تحریروں کو درست کرنے کا کام کررہے ہیں۔ گزشتہ چند سال میں چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنائی وغیرہ جیسے اے آئی ٹولز کاروباری دنیا میں بہت مقبول ہو گئے ہیں، اور انہیں کام کے بہاؤ(ورک فلو) کو ہموار کرنے اور اخراجات کم کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کی’’فیڈریشن آف اسمال بزنسز‘‘کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، 35فیصدچھوٹے کاروبار اگلے دو سال میں اے آئی کے استعمال میں توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن سارہ اسکیڈ جیسے افراد کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کوانسانی معیار تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا۔
ہمپشائر میں واقع ایک ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایجنسی ’کریئیٹ ڈیزائنز‘کی شریک مالک سوفی وارنر، کہتی ہیں کہ گزشتہ6 سے8ماہ میں ایسے کلائنٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو اے آئی کی پیدا کردہ مشکلات کو ٹھیک کروانے آتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں :’’پہلے کلائنٹس ہمیں اس وقت رابطہ کرتے تھے جب انہیں اپنی ویب سائٹ میں کوئی مسئلہ ہوتا یا نئی فنکشنلٹی شامل کرنی ہوتی، اب وہ پہلے چیٹ جی پی ٹی سے سے رجوع کرتے ہیں۔ لیکن چیٹ جی پی ٹی سے حاصل کردہ کوڈ ویب سائٹس پر شامل کرنے کے نتیجے میں، کچھ ویب سائٹس کریش کر گئیں اور سیکوریٹی خطرات بھی بڑھ گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے