(اُردو ایکسپریس) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو زبردست سہولت فراہم کر دی ہے۔ نادرا نے اعلان کیا ہے کہ اوورسیز پاکستانی اب اپنے قونصل خانوں میں بنائے گئے نئے کاؤنٹرز کے ذریعے تمام خدمات باآسانی حاصل کر سکیں گے۔ نادرا کے مطابق کینیڈا کے شہروں مونٹریال اور وینکوور، اٹلی کے میلان، بحرین کے مناما اور اردن کے عمان میں کاؤنٹرز فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ اٹلی کے دارالحکومت روم میں بھی نادرا کاؤنٹر کا آغاز جلد متوقع ہے۔ پاکستانی شہری اب ان مراکز پر جا کر شناختی کارڈ، دستاویزات کی تصدیق اور دیگر سہولیات سے براہِ راست استفادہ کر سکیں گے۔
اسی کے ساتھ نادرا نے شہریوں کے خاندانی ریکارڈ کے تحفظ کے لیے نیا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ ترجمان نادرا سید شباہت علی کے مطابق اب ہر پاکستانی اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے کہ اس کے خاندانی ریکارڈ (Family Tree) میں کوئی اجنبی یا غیر متعلقہ شخص تو شامل نہیں ہو گیا۔ ان کے مطابق “کسی کے فیملی ریکارڈ میں غیر متعلقہ فرد کے شامل ہونے کی تین بنیادی وجوہات ہوتی ہیں: جان بوجھ کر کسی کو خاندان کا حصہ بنا دینا۔
رقم یا دھوکے کے ذریعے شامل کرنا۔
یا محض کسی غلطی کے باعث اندراج ہو جانا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے شہریوں کو اپنی فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) دیکھنے کے لیے نادرا دفتر جا کر درخواست دینا پڑتی تھی، مگر اب نیا نظام اس عمل کو فیس کے بغیر اور فوری طور پر ممکن بناتا ہے۔ اگر آپ کے موبائل میں پاک آئی ڈی (Pak-ID) ایپ موجود ہے تو آپ گھر بیٹھے ہی اپنے پورے خاندانی ریکارڈ کی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں، نہ لائن، نہ دفتر، نہ فیس۔ نادرا کے یہ اقدامات نہ صرف شہریوں کے ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنائیں گے بلکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی پاکستان جیسی سہولت فراہم کریں گے۔