(اُردو ایکسپریس) دریائے راوی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ متوقع ۔ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، بیگم کوٹ شامل ہیں، دریائے ستلج میں شدید سیلاب کے پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔سیالکوٹ میں برساتی نالوں میں پڑے شگاف کو پر نہ کیا جاسکا۔مظفرگڑھ شہر،پلوں اور تنصیبات کو بچانے کے لیے حفاظتی بندوں کو توڑا جائیگا۔نارووال دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کی سطح کم ہونے لگی۔ این ڈی ایم اے کے مطابق 29 اگست کو صبح 7 بجے بلاکی بیراج پر1لاکھ50ہزار سے 2لاکھ کیوسکز کے درمیان بلند سطح کا سیلاب متوقع ہے۔ یکم ستمبر تک سیلابی ریلہ سدھنائی تک پہنچے گا،جو خطرناک حد تک 1لاکھ 25ہزار سے 1لاکھ 50ہزار کیوسک تک رہنے کا امکان ہے۔ہائی رسک یونین کونسلز میں لاہور کے علاقے شاہدرہ، کوٹ محبو، جیا موسیٰ، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن، فیصل پارک، دھیر، کوٹ بیگم شامل ہیں ۔ضلع شیخوپورہ (فیروزوالہ) میں فیض پور خو، دھمیکے، ڈاکہ، برج عطاری، کوٹ عبدالمال سیلاب کا خطرہ۔ضلع شیخوپورہ ،ننکانہ صاحب کے علاقے گنیش پور شامل۔ضلع قصور، پتوکی میں پھول نگر، رکھ خان کے، نتی خالص، لمبے جگیر، کوٹ سردار، ہنجرائے کلاں، بھتروال کلاں، نوشہرہ گئے علاقے شامل ۔ضلع خانیوال میں غوث پور ،میاں چنوں، امید گڑھ، کوٹ اسلام، عبدالحکیم ،کبیروالہ میں سیلاب متوقع۔ عوام الرٹ رہیں اور انحلا کیصورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
دریائے ستلج میں شدید سیلاب کے پیش نظر ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث کل 361 موضع جات زیر آب آئے۔ قصور میں 72 موضع جات متاثر ہوئے۔متاثرہ اضلاع میں 104 ریلیف کیمپس اور 105 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 1 لاکھ 27 ہزار لوگوں کا انخلاء اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 70 ہزار جانور کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔جانوروں کے علاج کے لیے تمام متاثرہ اضلاع میں کل 52 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ سیالکوٹ میں برساتی نالوں میں پڑے شگاف کو پر نہ کیا جاسکا، شہر میں تباہی مچانے والے نالہ پلخو جن شگاف کو پر نہ کیا جاسکا، ان شگاف سے پانی شہر میں داخل ہوا وہ جوں کے توں موجود ہے، نالہ پلخو کے مضافات میں ابھی تک پانی نہیں نکل سکا، بارش دوبارہ شروع ہوئی تو تباہی کئی گناہ بڑھ جائے گی۔
سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث دریائے چناب کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے،31 اگست کو دوپہر 4 بجے کے قریب تریمو بیراج پر پانی کا بہاؤ 7لاکھ سے 8لاکھ کیوسک تک متوقع جس کے باعث شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ممکنہ شدید سیلابی صورتحال جھنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو متاثر کرے گی۔یہ سیلابی ریلے 3 ستمبر کی دوپہر تک پنجند تک پہنچیں گےپنجند پر 6لاکھ50ہزار سے7لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے،ممکنہ متاثرہ اضلاع حافظ آباد، چنیوٹ، ملتان، پنجنداور بہاولپور کے علاقوں میں انخلاء کی کےلئے ہدایات جاری کر دی گئیں ۔چناب دریا کے بائیں کنارے پر واقع 18 ہزاری کا علاقہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بریچنگ سائیٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے ،مظفرگڑھ شہر میں 5 بریچنگ پوائنٹس پر تیاریاں شروع کردی گئیں.مظفرگڑھ: دریائے چناب میں پانی کا دباؤ 6 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کی صورت میں 5 بریچنگ پوائنٹس پر حفاظتی بندوں کو توڑا جائیگا. مظفرگڑھ شہر،پلوں اور تنصیبات کو بچانے کے لیے حفاظتی بندوں کو توڑا جائیگا.مظفرگڑھ. بستی دوآبہ اور بستی سنکی کے بند پر بارودی مواد نصب کرنے کی تیاریاں کر لی گئیں ہیں، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چناب پل پر ہیلی پیڈ بھی تیار کرلیا گیا۔ مظفرگڑھ شہر کو ہر صورت بچایا جائے گا.
نارووال دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کی سطح کم ہونے لگی ہے۔ اس وقت دریائے راوی میں 1 لاکھ 39 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے۔ جسڑ اور ککے کے دیہاتی لوگوں کے گھروں میں پانی ہونے کی وجہ سے سڑک کنارے مال مویشی کے ساتھ موجود ہے ۔نارووال رینجرز موقع پر پہنچ چکی ہے اور میڈیکل کیمپ لگ چکے ہیں