(اردو ایکسپریس) لاہور کے علاقے شاہدرہ میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث وقت پر کھانا نہ ملنے پر سفاک شوہرنے اپنی بیوی اور تین کمسن بیٹیوں کو کمرے میں بند کر کے آگ لگا دی، واقعے کے نتیجے میں ماں اور بچیاں شدید جھلس گئیں اور انہیں فوری طور پر میو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے میو ہسپتال کا دورہ کیا اور جھلسنے والی ماں اور تینوں بچیوں کی عیادت کی، انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے متاثرہ خاندان کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم شوہر کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے، حنا پرویز بٹ نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو شخص اپنی بیوی اور معصوم بچیوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا سکتا ہے، وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں،عورت اور بچوں کو زندہ جلانے کی کوشش انسانیت کے خلاف سنگین اور ناقابل معافی جرم ہے،ایسے سفاک ملزمان کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا اور قانون اپنی پوری طاقت سے حرکت میں آئے گا۔حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ پنجاب میں خواتین اور بچوں پر تشدد کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ صرف ایک خاندان پر حملہ نہیں بلکہ انسانیت، ماں کے تقدس اور بچپن کی معصومیت پر حملہ ہے، حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ملزم کو سخت ترین سزا دلوانا ہے، اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اس کیس کی مکمل نگرانی کرے گی تاکہ متاثرہ خاندان کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ ڈاکٹروں کو بھی زخمی ماں اور تینوں بچیوں کے علاج کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔