(اردو ایکسپریس) امریکی دھمکیوں کے بعد ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے دوٹوک اور شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران جھکنے والا نہیں،امریکی ٹی وی میزبان، سیاسی تجزیہ کار اور سابق فوجی پیٹ ہیگستھ کو کرارا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم نے جھکنا نہیں، صرف جیتنا سیکھا ہے‘‘ کہا جا رہا ہے کہ کیا ایرانی وزیر خارجہ کا حالیہ بیان عالمی طاقتوں کے لیے ایک نئی وارننگ ہے؟ عباس عراقچی نے جس سخت لہجے میں ایران کا مقدمہ پیش کیا، اس نے سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے،عباس عراقچی کا جواب نہ صرف سفارتی خودداری کی علامت ہے بلکہ ایک ایسی قوم کی آواز ہے جو دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اپنے قدموں پر کھڑی ہے۔عراقچی کے پانچ جملے حقیقت میں ان کی طاقت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ 1. ایران کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ وہ قومیں جن کی تربیت دہائیوں کی پابندیوں کے سائے میں ہوئی ہو، وہ گھٹنے نہیں ٹیکتیں بلکہ وقت کو شکست دے کر زندہ رہنا جانتی ہیں۔ 2. ہماری سٹریٹجک خاموشی کو ہماری کمزوری سمجھنا تجزیہ نہیں بلکہ آپ کا تکبر ہے، ہم خوف کی وجہ سے جنگ بندی نہیں چاہتے، بلکہ طاقت کے توازن کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ 3. دباؤ سے ہم سرنگوں نہیں ہوتے بلکہ ہمارے اندر مزاحمت پیدا ہوتی ہے، اور یہی مزاحمت طاقت کے عالمی مراکز کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 4. یہ خطہ آپ کے بیانات کا سٹیج نہیں ہے، یہ ان لوگوں کی سرزمین ہے جو یہاں بستے ہیں، اور ہم کسی سے ہدایات لینا قبول نہیں کرتے۔ 5. اپنے الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں، ایران نے کبھی رعایت کی بھیک نہیں مانگی، بلکہ ہم نے ہمیشہ اپنی شرائط پر توازن برقرار رکھا، جس قوم کو توڑا نہیں جا سکتا، اسے ڈرایا بھی نہیں جا سکتا۔ ایسی قوموں کے ساتھ صرف برابری کی بنیاد پر بات ہو سکتی ہے۔” عراقچی کا یہ لہجہ واضح کرتا ہے کہ ایران اب "دفاعی پوزیشن” سے نکل کر "جوابی بیانیے” کی طرف آ گیا ہے، وہ واضح کر رہے ہیں کہ پابندیاں اب ایران کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں بلکہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہیں جس کے ساتھ وہ جینا سیکھ چکے ہیں۔