(اُردو ایکسپریس) یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ امریکا سے مفت میں فوجی مدد نہیں مانگ رہے، بلکہ اپنا دفاع مضبوط کرنے کے لیے امریکی میزائل سسٹم خریدنے کو تیار ہیں۔
زیلنسکی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ امریکا سے جدید ’پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم‘ خریدنا چاہتے ہیں تاکہ روس کے حملوں سے اپنے شہروں کو بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین یہ میزائل خود خریدے گا، ہمیں صرف اجازت چاہیے۔
لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ درخواست مسترد کر دی اور الزام لگایا کہ جنگ یوکرین نے خود شروع کی۔ ٹرمپ نے کہا، ’آپ اپنے سے بیس گنا بڑے ملک سے جنگ شروع کرتے ہیں اور پھر دوسروں سے میزائل مانگنے کی امید رکھتے ہیں؟‘
ان کا یہ بیان اس حقیقت کے خلاف ہے کہ روس نے بغیر کسی اشتعال کے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
حالیہ دنوں میں روس نے یوکرینی شہر سومی پر حملہ کیا جس میں 35 عام شہری مارے گئے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ ٹرمپ نے حملے کو ’افسوسناک‘ کہا لیکن دعویٰ کیا کہ شاید یہ غلطی سے ہوا۔
اس حملے کے بعد نیٹو کے نئے سربراہ مارک روٹے نے یوکرین کے شہر اوڈیسا کا دورہ کیا۔ صدر زیلنسکی کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا، ’نیٹو یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔‘
زیلنسکی نے پھر واضح کیا کہ، ’ہمیں امریکا سے میزائل نظام چاہیے، لیکن ہم اس کے پیسے دینے کو تیار ہیں۔ ہم امداد نہیں مانگ رہے۔‘
دوسری طرف امریکا نے ابھی تک یوکرین کے لیے کوئی نئی فوجی مدد جاری نہیں کی۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے پہلے سے منظور شدہ امداد کو بھی کچھ دن روک دیا تاکہ یوکرین پر دباؤ ڈالا جا سکے۔