پاکستان تازہ ترین

760 اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز سیل کرنے کی ہدایت

Share:
Spread the love

(اردو ایکسپریس) لاہور میں 760 اکیڈمیز بند کی جا رہی ہیں ، ساتھ ہی ساتھ ستمبر سے کھلنے والے ہر نئے اسکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ سمر کیمپ ختم ہونے کے باوجود اسکول میں سمر کیمپ کیوں جاری تھا؟

 

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔

 

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ اسکول انتظامیہ نئی عمارت لے کر اس میں توسیعی تعمیرات (ایکسٹینشن) کر رہی تھی، تاہم تعمیراتی کام کے دوران لینٹر کو مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی کھول دیا گیا، جس کے باعث حادثہ پیش آیا، راہگیر زخمی ہوئے اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن اتھارٹی کی ٹیم نے 15 روز قبل عمارت کا معائنہ کیا تھا اور اسکول انتظامیہ کو وارننگ بھی جاری کی تھی، مگر اس کے باوجود 15 دن انتظار کرنے کے بجائے صرف 5 دن بعد لینٹر کھول دیا گیا۔

 

رانا سکندر حیات کے مطابق اسکول انتظامیہ نے عمارت کی توسیع سے متعلق محکمہ تعلیم کو آگاہ نہیں کیا، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے خطرناک قرار دی جانے والی عمارت کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔وزیر تعلیم نے اعلان کیا کہ لاہور میں 760 اکیڈمیز بند کی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے بھر کے 13 ہزار اسکولوں کو عمارتوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ستمبر سے کھلنے والے ہر نئے اسکول کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ وزیر تعلیم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ 30 جون کو سمر کیمپ ختم ہونے کے باوجود اسکول میں سمر کیمپ کیوں جاری تھا۔

 

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ واقعے میں غفلت برتنے پر 2 ڈپٹی ڈی ای اوز اور 2 اے ای اوز کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔رہے کہ گزشتہ روز وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے باغبانپورہ میں پیش آنے والے اسکول واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی ایجوکیشن اتھارٹی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی تھی۔

 

وزیر تعلیم نے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ حکومتی پابندی کے باوجود سمر کیمپ کلاسز کیوں جاری تھیں انہوں نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے مکمل وضاحت پیش کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔

 

رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ واقعے میں اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کا کڑا احتساب کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے